امریکا نے افغان باشندوں کی امیگریشن درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دیں

واشنگٹن: امریکی امیگریشن ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ افغان باشندوں کی امریکا میں امیگریشن کی درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ اس کا واحد مقصد ملک اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اقدام وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان شہری کی فائرنگ کے بعد کیا گیا، جس میں نیشنل گارڈز کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔ فائرنگ کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ واقعے میں ملوث افغان شہری رحمان اللہ 2021 میں امریکا آیا تھا۔ ٹرمپ نے ہدایت دی ہے کہ بائیڈن دور میں افغانستان سے امریکا داخل ہونے والے تمام غیر ملکیوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے۔

یہ اقدام امریکی حکومت کی جانب سے امیگریشن سیکیورٹی اور ملکی تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنے والا شوٹر افغان نژاد نکلا

 یاد رہے کہ گزشتہ دن امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے واقعے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کرنے والے کی شناخت رحمان اللہ لکنوال کے نام سے ہوئی ہے، جو ایک افغان نژاد غیر قانونی شہری ہے اور 2021 میں بائیڈن انتظامیہ کے تحت امریکہ میں داخل ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق حملے کے دوران مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔

واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا، اور وائٹ ہاؤس سمیت علاقے کو عارضی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے واقعے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت اور زخمی ہونے والے ملزم کی حالت پر تفتیش جاری ہے۔

واقعے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو محاصرے میں لے لیا گیا۔

امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری نے بھی فائرنگ کی تصدیق کی ہے۔ پولیس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے واقعے کے بعد لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت تھینکس گیونگ کی تعطیلات کے سلسلے میں فلوریڈا میں موجود تھے اور انہیں واقعے کی تفصیلات سے مطلع کر دیا گیا۔

Scroll to Top