اڈیالہ جیل دھرنا ختم، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اب احتجاج کی کال دے دی

اڈیالہ جیل کے باہر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا رات بھر جاری رہنے والا دھرنا ختم ہوگیا، اب احتجاج کی کال دے دی۔

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ کا لائحہ عمل منگل کو پیش کیا جائے گا جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ایک بڑا اور پرامن احتجاج ہوگا جس میں پارلیمنٹرینز اور عوام شریک ہوں گے۔

سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی کسی سے ملاقات نہیں کروائی جارہی اور عدالتی احکامات کے باوجود رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کمزور کرنے کے لیے تمام حربے آزمائے جا رہے ہیں جبکہ ملکی و بین الاقوامی میڈیا عمران خان کی صحت سے متعلق تشویشناک خبریں نشر کر رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ آج ہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملنے آئے مگر آدھا گھنٹہ عدالت چلنے کے بعد چیف جسٹس اپنے چیمبر میں آئے مگر ملنے سے انکار کردیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر عدالتیں عوام کو انصاف نہ دے سکیں تو لوگ خود انصاف کے راستے تلاش کریں گے جس سے ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس نہیں چلنے دیے جائیں گے جب تک عمران خان کی فیملی سے ملاقات نہ کرائی جائے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم احتجاج کا آئینی راستہ اپنائیں گے، ہمارے پاس آخری آپشن یہی بچا ہے، انہوں نے کہا کہ بات چیت کے لیے بنائی گئی کمیٹی بھی بے اختیار ثابت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا ختم کردیا

معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات کے لیے تمام آئینی و قانونی راستے اپنائے لیکن 27 نومبر کے بعد کسی کی ملاقات نہیں کرائی گئی۔

انہوں نے پنجاب حکومت اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ جمہوریت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب میں آمریت کا ماحول ہے اور اب حکومت کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا، اس لیے عوامی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

Scroll to Top