اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت کے رویے کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے سوال کیا کہ اگر سیاسی دھرنے جاری رہیں تو صوبے کے انتظامی امور پر کون توجہ دے گا؟
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت غیر قانونی مطالبات کر رہی ہے اور جیل مینوئل کے خلاف درخواستیں دی جا رہی ہیں۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں اور انہوں نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا جبکہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر تنہا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کبھی کسی قیدی کو اتنی مراعات نہیں ملی جتنی بانی پی ٹی آئی کو حاصل ہیں۔
وزیر اطلاعات نے خبردار کیا کہ بھارت اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر پارلیمنٹ کی کارروائی روکنے کی دھمکی دی ہے اور منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ملاقاتیں صرف جیل رولز کے مطابق ہی ممکن ہیں، خواہشات پر عمل نہیں ہوگا،بیرسٹر عقیل
جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ایسی ملاقات چاہتی ہے جس میں سیاسی معاملات پر گفتگو ہو، جبکہ جیل انتظامیہ کے مطابق ملاقاتیں صرف قوانین اور جیل مینول کے تحت کرائی جاتی ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملاقاتوں کے حوالے سے حکومت نہیں بلکہ سپرنٹنڈنٹ جیل بااختیار ہوتا ہے، اور فیصلے مکمل طور پر پریزن رولز کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ اس سے پہلے بھی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ یہی اصول اپنایا گیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو کئی ماہ تک کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تھی، نوازشریف کی ملاقاتیں بھی طویل عرصے تک محدود رہی تھیں اور ان ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو نہیں ہوتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل میں صرف ایک قیدی نہیں بلکہ سیکڑوں قیدی موجود ہیں جن کی سیکیورٹی بھی اتنی ہی اہم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے اور ان کی فیملی اور وکلا سے ملاقاتیں معمول کے مطابق ہوتی رہی ہیں۔





