پنجاب میں ترقی، پختونخوا میں بحران: تنخواہیں نہیں، زمینیں بیچی جارہی ہیں، امیرحیدر خان ہوتی

مردان: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے مردان میں یونین کونسل باڑی چم میں ورکرز کنونشن اور شمولیتی تقریب کا انعقاد کیا، جس میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیرحیدر خان ہوتی نے خطاب کیا۔ تقریب میں پارٹی کے ارکان اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

امیرحیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مردان میڈیکل کمپلیکس کا منصوبہ 2015 تک مکمل ہونا تھا جو آج بھی نامکمل ہے، ان کا کہنا تھا کہ مردان کے عوام کو پشاور جانے کی ضرورت نہ پڑے اور علاقے میں ہی طبی سہولیات میسر ہوں، تاہم بدقسمتی سے صوبائی حکومت کی ناکامی اور نااہلی کے سبب یہ منصوبہ زیر التوا ہے اور ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو فوری طور پر ہسپتال کے امور اور دیگر عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے عوام کی بجائے اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لیے ووٹ حاصل کیے، جو اچھی بات ہے کہ پارٹی اپنے قائد کے لیے جدوجہد کرتی ہے، لیکن عوام کی فلاح اور مسائل کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے صوبے میں بڑھتی دہشتگردی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بنوں، لکی مروت، وزیر ستان، ڈیرہ اسماعیل خان، باجوڑ، مہمند، خیبر اور تیراہ سمیت کئی اضلاع میں دہشتگردی عروج پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کرسی کی سیاست میں مصروف ہے جبکہ عوام کی خدمت اور امن قائم کرنا سب سے اہم ہے۔

امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبے میں پولیس بہترین کارکردگی دکھا رہی ہے، لیکن نوجوان شہید ہو رہے ہیں اور عوام کو بنیادی سہولیات نہیں مل رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقی عروج پر ہے، روزانہ نئے تعلیمی ادارے، اسپتال اور کالجز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں یونیورسٹیوں اور اسپتالوں کی تعمیر و ترقی میں شدید تاخیر ہے۔ یونیورسٹیوں کو تنخواہوں کے لیے زمینیں بیچ کر گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے احتساب کے عمل پر بھی بات کی اور کہا کہ احتساب صرف 2018 تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ 2008 سے لے کر موجودہ حکومت تک ہر الیکشن اور ہر حکومت کے اقدامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ عوام کے سامنے سچائی آئے۔

یہ بھی پڑھیں : دھرنے عوام کی بھلائی کے بجائے انتشار پیدا کر رہے ہیں، عطا تارڑ

انہوں نے کہا کہ یہ غیر منصفانہ ہے کہ صرف مخالف پارٹی کے اراکین کا احتساب کیا جائے، ہر کسی کو یکساں احتساب کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ عوام اور پختون قوم کی فلاح، امن اور ترقی کے لیے کام کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ 15 سال سے سیاست میں گالم گلوچ، بے عزتی اور غیر اخلاقی رویہ عام ہو چکا ہے، جو کہ ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، عوام کے مسائل حل کرے اور کرسی کی سیاست کو عوامی فلاح پر فوقیت نہ دے۔

Scroll to Top