امریکا کی ریاست ٹیکساس میں ایک اور افغان شہری کو دہشت گردی کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹیکساس کے محکمہ پبلک سیفٹی اور ایف بی آئی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے محمد داود الوکوزائی کو گرفتار کیا۔
حکام کے مطابق گرفتار افغان شہری نے ایک ویڈیو پیغام میں اعتراف کیا تھا کہ وہ ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں حملے کے لیے بم تیار کر رہا ہے، ویڈیو میں اس نے علاقے کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد داود الوکوزائی امریکا میں جو بائیڈن انتظامیہ کے پروگرام ا آپریشن الائیز ویلکم کے تحت آیا تھا جو افغانستان سے انخلا کے بعد نقل مکانی کرنے والے افغان شہریوں کے لیے بنایا گیا تھا۔
ویڈیو پیغام وہائٹ ہاؤس واقعے کے صرف دو دن بعد سامنے آیا جس کے بعد ایف بی آئی اور ٹیکساس ڈیپارٹمنٹ آف پبلک سیفٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ سیکیورٹی اداروں نے ٹیکساس اور اطراف کے علاقوں میں الرٹ لیول بھی بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے معاملے کی تحقیقات میں تیزی آگئی ہے۔
ایف بی آئی نے مشتبہ حملہ آور رحمان اللہ لکنوال اور اس سے منسلک افغان شہریوں کے گھروں پر واشنگٹن اور سان ڈیاگو میں چھاپے مارے جہاں سے موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر الیکٹرانک آلات قبضے میں لے لیے گئے۔
حکام کے مطابق رحمان اللہ کے رشتہ داروں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ واشنگٹن میں مقیم تھا۔
یہ بھی پڑھیں: واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ، نیشنل گارڈ کی خاتون ہلاک، ٹرمپ کی تصدیق
29 سالہ حملہ آور کی تصویر بھی جاری کر دی گئی ہے جبکہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ ماضی میں افغانستان میں سی آئی اے کے لیے کام کر چکا ہے اور اسی بنیاد پر اسے امریکا آنے کی اجازت ملی تھی۔
واقعے کے بعد امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کا عمل غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا ہے اور بائیڈن دور میں داخل ہونے والے تمام غیر ملکیوں کی دوبارہ جانچ کا حکم دے دیا گیا ہے۔





