ہری پور ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات، الیکشن کمیشن کی وضاحت سامنے آگئی

ہری پور ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات، الیکشن کمیشن کی وضاحت، قانونی طریقہ کار کی پاسداری کی تصدیق

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد الیکشن کمیشن نے وضاحتی بیان جاری کر دیا ہے۔ کمیشن نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ بعض عناصر ہری پور کے ضمنی الیکشن کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان الزامات میں ڈی آر او اور آر او کی تعیناتی کو سازش قرار دینا بھی شامل ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق یہ دعوے حقائق کے سراسر منافی ہیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ عام انتخابات میں عملے کی کمی کے باعث آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی ممکن نہیں ہوتی، تاہم ضمنی انتخابات میں ضرورت کے تحت یہ عمل مکمل قانونی طور پر کیا جاتا ہے۔ این اے 18 ہری پور میں تعینات افسران کو اسی ایریا میں ڈی آر او اور آر او مقرر کیا گیا، جو الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کمیشن کا مکمل قانونی اختیار ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہمیشہ سے ڈی آر او اور ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کمیشن ہی کرتا آیا ہے اور پول ڈے سے قبل تمام تعیناتیاں مکمل کر دی جاتی ہیں۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کے دن تک کسی جانب سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا، اور یہ الزامات ہارنے کے بعد لگائے جا رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ الیکشن مکمل ہونے کے بعد تنازعات کے حل کے لیے مختلف فورم موجود ہیں۔ اگر آر او درخواست لینے سے انکار کرتا ہے تو متعلقہ فریق کو کمیشن سے رجوع کرنا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اسی طرح کنسالیڈیشن یا ری کاونٹنگ کے لیے بھی سب سے پہلے آر او سے رجوع کیا جاتا ہے، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو مقررہ وقت کے اندر کمیشن سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کا یہ بیان اس بات کا اعادہ ہے کہ ضمنی انتخابات میں قانونی طریقہ کار کی مکمل پاسداری کی گئی اور الزامات حقیقت کے منافی ہیں، تاکہ عوام اور امیدواروں کو شفاف انتخابات کی یقین دہانی کرائی جا سکے۔

Scroll to Top