چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ نے وفاق کو مضبوط بنیاد فراہم کی اس لیے این ایف سی ایوارڈ سے کھیلنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی یوم تاسیس پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایسے کسی فیصلے کا حصہ نہیں بنے گی جس سے وفاق کمزور ہو۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ سندھ کے بارے میں غلط بیانی کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب افغانستان کو پاکستان کے خلاف اکسانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے تاہم پاکستانی قوم متحد ہو کر ہر سازش ناکام بنائے گی، جو بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، ہم اسے جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت کے وزیر دفاع کا سندھ سے متعلق بیان بھی غلط اور گمراہ کن ہے جبکہ ہم مل کر مودی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مل کر 27ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی تاہم کچھ عناصر آئینی عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پارلیمان کے قانون سازی کے اختیارات میں مداخلت نہ کرے، ایسی عدالت نہیں بننی چاہیے جو ایک خط نہ لکھنے پر وزیر اعظم کو نااہل کردے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی عدالت کے ججز بڑی ذمہ داری کے حامل ہیں جبکہ حکومت این ایف سی کے ذریعے صوبوں کو دیے گئے حق کو ختم کرنا چاہتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: 4 دسمبر کو این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کے حقوق کا معاملہ اٹھائیں گے، سہیل آفریدی
موجودہ سیاسی بحران کو حل کر کے ملک کو مشکلات سے نکالنا ہوگا کیونکہ پاکستان نہ صرف دہشت گردی بلکہ دشمن ممالک کی سازشوں کا بھی سامنا کررہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اندرونی لڑائی کا دشمن فائدہ نہ اٹھا سکے۔
بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ مادرِ وطن کو مضبوط کرنا ہی پیپلز پارٹی کا نظریہ ہے اور وہ وفاق کو کمزور کرنے والی کسی بھی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے۔





