وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پر سخت تنقید کی ہے۔
مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے 43 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے صرف پنجاب اور سندھ کے لیے منظور کیے جبکہ خیبر پختونخوا کو محض 1.3 ارب روپے دیے گئے جو بلوچستان سے بھی کم ہیں۔
مزمل اسلم کے مطابق 43 ارب روپے میں سے پنجاب کے ممبرانِ قومی اسمبلی کے منصوبوں کے لیے 23.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کا بڑا حصہ حکومتِ پنجاب کے ذریعے خرچ کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت پنجاب کے دیہی علاقوں میں بجلی فراہمی کے منصوبوں پر بھی 5.9 ارب روپے خرچ کرے گی جبکہ مزید 40 کروڑ روپے ڈیفنس ڈویژن کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔
سندھ کے ممبرانِ قومی اسمبلی کو 15.3 ارب روپے ملیں گے جن میں سے 10.3 ارب سندھ حکومت کے ذریعے اور باقی 4.3 ارب پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے ذریعے خرچ ہوں گے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے فنڈز براہِ راست پی آئی ڈی سی اور واپڈا کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے جس سے صوبے کی ترقیاتی اسکیموں پر صوبائی خودمختاری محدود ہوگی، بلوچستان کو 2.3 ارب روپے اور اسلام آباد کو 750 ملین روپے دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر خیبرپختونخوا کی تبدیلی، فیصل کریم کنڈی کا مؤقف سامنے آ گیا
مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں صوبوں کے درمیان عدل و انصاف یقینی بنایا جائے تاکہ ملک کے پسماندہ صوبوں کی ترقی میں اضافہ ہو اور تمام شہریوں کو یکساں مواقع میسر آئیں۔





