اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر اور چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج اور صوبے کے سیاسی و انتظامی مسائل پر حکومت کو خبردار کیا ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ اگر گورنر راج نافذ کیا گیا تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے احتجاج کے حق کو پارلیمانی اور جمہوری قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں تقریر کرنا اور سیاسی بات کرنا الگ چیزیں ہیں۔
اسد قیصر نے سابق وزیراعظم کے استعمال شدہ لہجے کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے سوال کیا کہ وہ کس حیثیت میں گورنر راج لگانے کی بات کر رہے ہیں۔
اسد قیصر نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کو آج تک این ایف سی سے حصہ اور آب پاشی کا خالص منافع نہیں ملا، اور اگر موجودہ صورتحال اسی طرح بڑھی تو نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگتا ہوا نہیں نظر آ رہا۔
گوہر نے کہا کہ صوبہ گورنر راج کے متحمل نہیں ہے اور حکومت کو چاہیے کہ دہشتگردی کے خاتمے میں سنجیدہ اقدامات کرے۔
یہ بھی پڑھیں : چیئرمین پی ٹی آئی نے اسمبلی کے فلور پر کیا کہا، کہ سب کی نظریں اس پر جم گئی
انہوں نے حکومتی نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں جھگڑے اور تقسیم پیدا کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے۔
گوہر نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعلیٰ نے واقعی ٹانگیں توڑنے کی بات نہیں کی، اور کہا کہ اختلاف رائے کو غداری قرار دینا جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا یہ موقف واضح کرتا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کے سیاسی ماحول اور صوبے کے انتظامی مسائل پر سنجیدہ ہیں اور حکومت سے متوازن اور آئینی فیصلے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔





