پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو 27ویں آئینی ترمیم میں پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔
شوکاز نوٹس کی کاپی چیئرمین سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔
نوٹس کے مطابق سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے 10 اور 15 نومبر کو پارٹی ہدایت کے برخلاف ووٹ دیاحالانکہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے 27ویں ترمیم کی مخالفت کرنے کا واضح فیصلہ کیا تھا اور تمام سینیٹرز کو تحریری ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ترمیم کے خلاف ووٹ دیں۔
ریکارڈ کے مطابق یہ ہدایات سینیٹر تک باضابطہ طور پر پہنچائی گئی تھیں،نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی یہ خلاف ورزی جان بوجھ کر اٹھانے والے اقدام ہے۔
شوکاز نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو پر آرٹیکل 63 اے (1) (ب) کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے، کیونکہ آئین کے مطابق پارٹی کی ہدایت کے برخلاف ووٹ دینے والا رکن منحرف تصور کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی تشریح کے مطابق پارٹی کی ہدایت لازمی اور پابندِ عمل ہوتی ہے۔
نوٹس میں سینیٹر کو سات دن کے اندر تحریری وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اگر وضاحت موصول نہ ہوئی تو یہ اقدام پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی تصور ہوگا اور معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی نااہلی کے لیے ریفرنس بھی بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
شوکاز نوٹس سینیٹر سید علی ظفر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔





