گھی اور کوکنگ آئل مہنگے، چینی کی قیمتیں نیچے آ گئیں

اسلام آباد: وفاقی ادارہ شماریات (PBS) کی تازہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے اور مجموعی سالانہ شرح مہنگائی 3.90 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ رہا، جس میں کچھ اشیاء مہنگی اور کچھ سستی ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے گھی، کوکنگ آئل، مرغی، آٹا، انڈے اور دال مونگ کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

مرغی 6.19 فیصد، آٹا 2.88 فیصد اور انڈے 0.93 فیصد مہنگے ہوئے۔ دیگر مہنگی ہونے والی اشیاء میں گھی اور کوکنگ آئل بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ٹماٹر، چینی، پیاز اور آلو کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں 16.18 فیصد، چینی میں 4.91 فیصد، پیاز میں 4.08 فیصد اور آلو میں 1.71 فیصد کمی ہوئی۔

سستی ہونے والی اشیاء میں کیلا، دال چنا، دال مسور اور ایل پی جی شامل ہیں، جس سے صارفین کو کچھ ریلیف ملا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 12 اشیاء مہنگی، 10 اشیاء سستی اور 29 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

مہنگائی میں اس معمولی کمی کے باوجود ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ صارفین کی روزمرہ زندگی پر اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر گھی اور کوکنگ آئل جیسی بنیادی اشیاء کے مہنگے ہونے سے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مالی سال میں گاڑیوں کی فروخت میں 33 فیصد اضافہ

جبکہ دوسری جانب مارکیٹ میں برائلر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جس سے صارفین شدید پریشان ہیں۔

گزشتہ دو روز کے دوران برائلر گوشت فی کلوگرام 29 روپے مہنگا ہوا، جبکہ آج معمولی 7 روپے کمی بھی صارفین کے لیے قابلِ قبول نہیں رہی۔

اس وقت برائلر گوشت کی قیمت 475 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے، جب کہ زندہ برائلر مرغی کی تھوک قیمت 300 روپے اور پرچون قیمت 324 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔

صارفین نے حکومت اور مارکیٹ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ برائلر گوشت کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے تاکہ عام لوگ آسانی سے گوشت خرید سکیں۔

دوسری جانب انڈے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایک پیٹی انڈے میں 30 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد پیٹی کی قیمت 10,500 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

Scroll to Top