پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ خوراک کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں، ذخیرہ اندوزی اور معیار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں تیز کرنےکی ہدایت کی اور کہا کہ سرکاری نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی ہر صورت دستیابی یقینی بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : سلطان گولڈن نے ریورس ڈرائیونگ کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
انہوں نے عوامی سہولت کے لیے فیلڈ وزٹس بڑھانےاور غذائی اجناس کی خود کفالت کے لیے جامع منصوبہ بندی کرنے کی بھی ہدایت دی۔
وزیراعلی نے صوبے میں گندم کی سٹوریج کیپسٹی بڑھانے کے اقدامات پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ صوبے کی سالانہ گندم کی ضرورت 53 لاکھ میٹرک ٹن ہے جس میں سے 14 لاکھ میٹرک ٹن مقامی پیداوار اور 38 لاکھ میٹرک ٹن دیگر صوبوں سے حاصل کی جاتی ہے۔
محکمہ فوڈ ڈائریکٹوریٹ نے گزشتہ چھ ماہ میں 1,86,312 دکانوں کے انسپیکشن کیے، جن میں سے 8,802 دکانوں کو چالان کیا گیا اور 3.1 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
حلال فوڈ اتھارٹی نے 86,817 انسپیکشنز کے دوران 4,03,191 کلوگرام/لیٹر مضر صحت اشیاء تلف کیں اور 8.4 کروڑ روپے کے جرمانے بھی عائد کیے۔





