پشاور: آج آرمی پبلک اسکول پشاور پر 11 سال قبل ہونے والے سفاکانہ دہشتگردانہ حملے کی یاد تازہ کی جا رہی ہے، جس میں علم کی پیاس بجھانے والے معصوم طلباء اور اساتذہ کو شہید کیا گیا تھا۔ اس المناک واقعے میں مجموعی طور پر 147 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر طلباء شامل تھے۔
16 دسمبر 2014 کو چھ دہشتگرد دیوار پھلانگ کر اسکول میں داخل ہوئے اور سرکاری اہلکاروں کی وردیوں میں ملبوث ہو کر جدید اسلحہ سے طلباء اور اساتذہ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
چند لمحوں میں خوشیوں اور تعلیم کی فضا خون میں لت پت ہو گئی۔ پھولوں کی خوشبو سے مہکتا اسکول بارود کی بو سے آلودہ ہو گیا۔
واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے اسکول کا گھیراؤ کیا اور طویل آپریشن کے بعد چھ خودکش حملہ آوروں کو ہلاک کیا۔
اس کارروائی میں دو افسران سمیت 9 سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ بعد ازاں گرفتار کیے گئے چھ دہشتگردوں کو ملٹری کورٹس نے موت کی سزائیں سنائیں۔
سانحہ کے بعد ملک بھر میں عوام اور ریاستی ادارے متحد ہو گئے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان نافذ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دروازہ کھول دیا، اہم شرائط سامنے آ گئیں
اس کے تحت قبائلی علاقوں سے شدت پسند عناصر کا صفایا کیا گیا اور ملک میں دہشتگردوں کے حملوں کی جڑیں اکھاڑی گئیں۔
شہداء کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کو یاد کر کے غمزدہ ہو جاتے ہیں، لیکن جب شہداء کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے تو ان کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے نے ملک کے لیے ایک سبق بھی چھوڑا کہ دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر ہی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
آرمی پبلک اسکول حملے کی یاد میں آج ملک بھر میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اور قربانی دینے والے طلباء اور اساتذہ کی شجاعت نسل در نسل یاد رکھی جائے گی۔





