راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے ان کی بہنیں اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم حکام نے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔
اس کے بعد انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے دیا، جس میں تحریک انصاف کے کارکنان بھی شامل ہوئے۔
دھرنے کے دوران راولپنڈی پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا اور مظاہرین کی جانب مارچ کیا، جس کے نتیجے میں کارکنان بھاگ کھڑے ہوئے اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
علیمہ خان کارکنان کو چھوڑ کر واپس روانہ ہو گئی، جبکہ عمران خان کی بہنیں اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس بھی محفوظ طور پر وہاں سے واپس لوٹ گئے۔
واٹر کینن کے ایک ہی وار نے مظاہرین کے جوش اور جذبے کو جھنجھوڑ دیا۔
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کا امامہ چار بار زمین پر گر گیا اور انہوں نے تیز پانی کی وجہ سے مشکلات برداشت کیں۔
یہ بھی پڑھیں : اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا ختم، ٹھنڈے پانی کے وار کے بعد قیادت غائب، علیمہ خان اور دیگر افراد واپس روانہ
اس دوران شوکت بسرا کو ہلکی چوٹ بھی آئی، جس پر علیمہ خان نے ان کی خدمات کا خراج تحسین پیش کیا۔
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان پر ٹھنڈے پانی کا وار کیا اور کیمیکل ڈالنے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے مظاہرین کو تحمل سے کام لینے کی ہدایت دی۔
راولپنڈی پولیس نے دھرنے کی جگہ مکمل طور پر خالی کرالی اور جو کارکنان گلیوں میں چھپ کر بچ گئے تھے، انہیں بھی حراست میں لیا جا رہا ہے۔





