نئے صوبوں کے قیام پر مولانا فضل الرحمان کا اہم مؤقف سامنے آ گیا

نئے صوبوں کے قیام پر مولانا فضل الرحمان کا اہم مؤقف سامنے آ گیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیں تو اس کی مخالفت کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہتر طرز حکمرانی اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں، اور اسی تناظر میں نئے صوبوں کا قیام ایک قابلِ غور آپشن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبے بنانے کا مقصد عوامی مسائل کا حل اور انتظامی نظام کو مؤثر بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اس موقع پر صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مفاد میں مضبوط بلدیاتی نظام قائم کریں تاکہ نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی ممکن ہو سکے اور عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ مجوزہ آل پاکستان کانفرنس میں 27ویں آئینی ترمیم کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی آئینی ترمیم سے قبل تمام سیاسی جماعتوں، اسٹیک ہولڈرز اور متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لینا ضروری ہے

سیاسی مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان نئے صوبوں کے معاملے پر جاری سیاسی بحث میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے اس مسئلے پر وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے کی راہ ہموار ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

Scroll to Top