بھارتی یوٹیوبر دھرو راٹھی نے پاکستان مخالف متنازع فلم کا پول کھول دیا

بھارت کے معروف یوٹیوبر اور سماجی تجزیہ کار دھرو راٹھی نے بالی ووڈ کی متنازع فلم دھریندر کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دھرو راٹھی نے اپنے یوٹیوب چینل پر جاری ایک ویڈیو میں فلم کے مواد اور اس کے پیغام پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ویڈیو میں دھرو راٹھی کا کہنا تھا کہ فلم میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے جرائم پیشہ افراد کو نوکریاں دیتے ہیں اور ایک سیکرٹ ایجنٹ کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق فلم کے ڈائریکٹر ادتیہ دھر نے وہی بیانیہ پیش کیا ہے جو پاکستان کے حوالے سے بعض بھارتی حلقوں کی جانب سے دعووں کی صورت میں سامنے آتا رہا ہے۔

دھرو راٹھی نے فلم کے ڈائریکٹر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد فن اور آرٹ کے نام پر نفرت کو فروغ دے رہے ہیں، جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ فلم کا مواد مخصوص سیاسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

یوٹیوبر نے مزید کہا کہ ادتیہ دھر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت میں حد سے آگے جا چکے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بالی ووڈ اداکاروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض اداکار نفرت انگیز پروپیگنڈا پر مبنی فلموں میں بلا جھجھک کام کر رہے ہیں۔

دھرو راٹھی کے مطابق فلم میں ایک ڈائیلاگ شامل ہے کہ ہندوستانیوں کا سب سے بڑا دشمن ہندوستانی ہی ہے، جو اکثر بھارتی سیاست میں مخالفین کے خلاف استعمال ہوتا رہا ہے اور بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے اس طرح کے جملے سننے کو ملتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم میں ایک متنازع کردار رحمٰن ڈکیت کو ایک پُرکشش اور ’کول‘ انداز میں پیش کیا گیا ہے جو ان کے نزدیک ایک غلط پیغام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی وزارت دفاع میں بڑے کرپشن سکینڈل کا انکشاف

ویڈیو کے آخر میں دھرو راٹھی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے رہنماؤں جیسے نہرو اور من موہن سنگھ پر طنز کیا جاتا ہے حالانکہ وہ اب اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے موجود نہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مستقبل میں جب موجودہ قیادت بھی تاریخ کا حصہ بن جائے گی تو ان کے کردار کو کس نظر سے دیکھا جائے گا۔

Scroll to Top