اسلام آباد:جمیعت علما اسلام (جے یو آئی ف) کے سینئر رہنما حافظ حمد اللہ نے واضح کیا ہے کہ نئے عام انتخابات کا مطالبہ ان کی جماعت کے لیے پرانا ہے اور حکومت کے خلاف حکمت عملی مرتب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے بعد بننے والی حکومت پر عوام کا اعتماد نہیں رہا، اور اس صورتحال میں قومی کانفرنس کے اعلامیے اور علیمہ خان کے بیانات میں تضاد واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ کون سا بیان مستند ہے اور عوام کو کس پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
حافظ حمد اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ انہوں نے نواز شریف سے جیل میں ملاقاتوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے اہم رہنماؤں سے ملاقات عام اور قانونی طور پر جائز ہے، اور پی ٹی آئی کو بھی آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
رہنما جے یو آئی ف نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن رہنما پہلے طے کریں گے کہ کس کے ساتھ بات کرنی ہے تاکہ ملک کو اجتماعی طور پر موجودہ سیاسی دلدل سے نکالا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے واضح حکمت عملی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سمیر منہاس نے قومی ٹیم میں اپنے پسندیدہ کھلاڑی کا نام بتا دیا
حافظ حمد اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کو جلسے اور مظاہروں کی اجازت دینی چاہیے تاکہ سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ آئے اور جمہوری عمل کو مضبوط کیا جا سکے۔
انہوں نے اپوزیشن کے اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تقسیم سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جبکہ موجودہ نظام کے تحت ملک میں استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی اختلافات کو بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا تاکہ عوام کے مسائل کو حل کیا جا سکے اور سیاسی استحکام قائم کیا جا سکے۔
حافظ حمد اللہ کے مطابق نئے انتخابات اور حکمت عملی کے بغیر ملک میں جمہوری سپیس اور عوامی اعتماد دوبارہ قائم نہیں ہو سکتا، اس لیے اپوزیشن کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔





