مولانا فضل الرحمان نے عام انتخابات کے حوالے سے بڑا اعلان کردیا

کراچی: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نہ 2018 کے عام انتخابات آئینی تھے اور نہ ہی 2024 کے، لہٰذا ملک میں دوبارہ شفاف انتخابات کی ضرورت ہے۔

کراچی میں گورنر سندھ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام سیاسی قوتیں ایک پیج پر ہیں اور ملک کی دفاعی قوتوں کو مضبوط دیکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے آئین کی بالادستی اور پارلیمان کے احترام پر زور دیا اور کہا کہ عدلیہ اور ملک کی تجارتی رینکنگ میں بہتری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ یکطرفہ طور پر کی گئی اور متنازعہ بنائی گئی، جبکہ 26 ویں ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔

مولانا فضل الرحمان نے زور دے کر کہا کہ آئینی معاملات میں یکطرفہ فیصلے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔

افغان مہاجرین کے مسئلے پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے اور مہاجرین کو دھکیلنے کے بجائے محفوظ اور باعزت طریقے سے واپس بھیجنے کی پالیسی بنائی جانی چاہیے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پچھلے 78 سال میں افغانستان پاکستان کا مکمل دوست نہیں رہا اور ہماری افغان پالیسی میں ناکامیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے آئے مہاجرین نے پاکستان میں تعلیم اور ہنر حاصل کیا ہے، اور ان کی صلاحیتوں کو ضائع کرنا ملک کے مفاد میں نہیں۔

ملک میں یکساں نصاب پر بات کی جا سکتی ہے لیکن دینی علوم اور مدارس کے خاتمے کے مغربی ایجنڈے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں : صوبائی حکومت کی دعوے اور حقیقی صورتحال: مہمند کے طلبہ زمین پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور

انہوں نے کہا کہ دینی مدرسے بھی تعلیمی ادارے ہیں اور ان کی قدر کرنی چاہیے، کیونکہ پاکستان عالمی سطح پر دینی تعلیم میں اعلیٰ رینکنگ رکھتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنی شخصیت پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود معاشرتی حسن یہ ہے کہ ہر نظریے کو عزت دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری ملنے پر خوشی ہے لیکن اب بھی وہ مولانا کہلانا زیادہ پسند کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے ملک میں سیاسی استحکام، آئینی بالادستی اور شفاف انتخابات کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ عوامی مفاد میں ہر فریق کو ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا۔

Scroll to Top