سرحدی بندش کے بعد افغانستان میں روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

کابل: پاکستان کے ساتھ سرحدی راستوں کی بندش کے اثرات افغانستان کے مختلف علاقوں میں نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں صوبہ پروان میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں 400 سے 700 افغانی تک اضافہ ہوا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

مقامی تاجروں اور دکانداروں کے مطابق 16 لیٹر کوکنگ آئل کی قیمت میں تقریباً 500 افغانی اضافہ ہوا ہے، جبکہ چاول کی بوری 700 افغانی تک مہنگی ہو چکی ہے۔

اسی طرح آٹے کی بوری کی قیمت میں بھی تقریباً 400 افغانی کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے ضروری اشیا کی خریداری مشکل ہو گئی ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ 16 لیٹر کوکنگ آئل جو پہلے 1550 افغانی میں دستیاب تھا، اب 2000 افغانی سے زائد میں فروخت ہو رہا ہے۔

چاول کی بوری کی قیمت 2300 افغانی سے بڑھ کر تقریباً 3000 افغانی تک پہنچ گئی ہے، جبکہ آٹے کی بوری جو پہلے 1400 افغانی میں ملتی تھی اب 1800 افغانی تک جا پہنچی ہے۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق یہ مہنگائی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب افغانستان پہلے ہی شدید معاشی بحران، بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آئی سی سی کا امریکی کرکٹ ٹیم کی مکمل سپورٹ کا اعلان

پروان کے ایک رہائشی شہرام نے بتایا کہ روزگار کے مواقع پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکے ہیں اور لوگوں کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ان کے مطابق مہنگائی کے باعث خرید و فروخت میں واضح کمی آئی ہے اور بازار اپنی سابقہ رونق کھو چکے ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا یہ رجحان صرف صوبہ پروان تک محدود نہیں بلکہ دارالحکومت کابل سمیت افغانستان کے دیگر حصوں میں بھی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس سے عوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

Scroll to Top