اسلام آباد: سابق وزیر اعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی نے نجکاری کے موجودہ عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ادارے بیچ کر کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کر رہی بلکہ نقصان سے بچنے کے لیے یہ اقدام کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ تاثر دیا ہے کہ نجکاری سے خزانے میں بھاری رقم آئی ہے، تاہم حقیقت میں صرف 10 ارب روپے موصول ہوئے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بیچا جانے والا ادارہ پہلے ہی ناکام تھا اور اس کی فروخت صرف ناکامی کا اعتراف ہے۔ عباسی نے کہا یہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ پیسہ وہی لوگ دے کر واپس لے گئے جو پہلے سرمایہ کار تھے۔
سابق وزیر اعظم نے پاکستان میں سیاست کے میثاقی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ملک میں سیاست زیادہ تر مفاد پر مبنی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکسی میثاق نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا، ہمارے پاس ایک میثاق ہے اور وہ آئین ہے۔
پہلے بھی ایک میثاق کے تحت بنائی گئی حکومت صرف چھ ہفتے چل سکی۔ آج بھی مفاد پر مبنی فیصلے میثاق سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سنو ہائیکنگ، رسہ کشی اور سنو مین مقابلے، سیاحوں کے لیے موسمِ سرما کا بڑا تہوار
عوام پاکستان پارٹی کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے کردار پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ نواز شریف اس معاملے میں غیر جانبدار نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ خود اس حکومت کی بنیاد رکھنے والے ہیں۔
عباسی نے کہا وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ جو بھی اقدامات کرتے ہیں، وہ نواز شریف کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ ایک تجربہ کار سیاستدان ضرور ہیں، مگر اس معاملے میں غیر جانبدار رہنا بہت مشکل ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے، اور آئین سے کھلواڑ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔





