پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہم نے صرف اپنا ایجنڈا پیش کیا ہے۔
سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہونا چاہیے اور یہ تاثر کہ پاکستان مذاکرات نہیں کرنا چاہتا، بالکل غلط ہے۔
اسد قیصر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کوئی ٹائم لائن موجود نہیں اور حکومت کے ردعمل کا انتظار کیا جائے گا، انہوں نے ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کے اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ممکن نہیں تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا موقف جمہوریت، آئین کی بالادستی، اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے، اسد قیصر نے 1973 کے آئین کی اصل شکل میں بحالی اور عوام کے ووٹ کے حق کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان 8 فروری کو یومِ سیاہ منائے گی اور عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا انتخابات میں اپنے نمائندے منتخب کریں گے یا دفتروں میں بیٹھے لوگ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مصطفی نواز کھوکھر کی بڑی وضاحت: اپوزیشن نے مذاکرات میں کوئی شرط نہیں رکھی
واضح رہے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن نے حکومت سے مذاکرات کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر بات چیت کرنا اپوزیشن کا بنیادی ایجنڈا ہے، وزیر اعظم کی مذاکرات کی پیشکش پر اتحادیوں سے مشاورت کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کی روشنی میں جمہوریت میں دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔





