انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا ہے کہ اگر کسی طالب علم نے میٹرک میں آرٹس کا انتخاب کیا ہے تو وہ پری میڈیکل سمیت کسی بھی گروپ میں داخلہ لے سکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹرغلام علی ملاح نے بتایا کہ بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے اصلاحات پر کام جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ طور پر ہماری گریڈ 12 یا ایچ ایس ایس سی کو برطانیہ کے اے لیول کے برابر نہیں سمجھا جاتا، تاہم اس مسئلے پر بات چیت جاری ہے۔ مقصد یہ ہے کہ پاکستان سے گریجویشن مکمل کرنے والا طالب علم وہاں کی یونیورسٹیوں میں آسانی سے داخلہ لے سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت پاکستانی طلبہ کو یونیورسٹی سے پہلے اکثر ایک سال کے لیے فاؤنڈیشن ائیر کرنی پڑتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مہنگائی میں معمولی کمی،ادارہ شماریات نےہفتہ وار رپورٹ جاری کردی
ڈاکٹر ملاح نے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ اس معاملے پر مذاکرات جاری ہیں اور نظام کی کچھ کمزوریاں دور کی جا رہی ہیں۔
آئی بی سی سی کی نئی پالیسیوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اگر کسی طالب علم نے اے لیول یا او لیول کیا ہے تو وہ اپنی تعلیمی اسناد کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر سکتا ہے اور ایک ہفتے کے اندر اسے برابری کا سرٹیفیکیٹ مل جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں پیچیدگیاں زیادہ ہیں، جبکہ بیرون ملک طلبہ کسی بھی کورس میں آسانی سے داخلہ لے سکتے ہیں۔ او لیول میں کچھ کورس لازمی ہوتے ہیں لیکن باقی مضامین کے انتخاب میں طلبہ آزاد ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر ملاح نے بتایا کہ پاکستان میں میٹرک میں دو گروپس ہوتے ہیں آرٹس اور سائنس۔ سائنس میں انتخاب محدود ہے، جبکہ آرٹس میں تقریباً 200 مضامین کے آپشن دستیاب ہیں۔ انٹرمیڈیٹ میں بھی پری میڈیکل، پری انجینئرنگ اور آرٹس کے تین گروپس ہیں، اور زیادہ انتخاب کے مواقع آرٹس میں موجود ہیں۔





