اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

نیو یارک: سلامتی کونسل نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر غور کے لیے آج پیر کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

اسرائیل نے جمعے کے روز صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جو ایسے وقت سامنے آیا جب چند دن بعد صومالیہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے والا ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ یہ فیصلہ ابراہام معاہدوں کی روح کے تحت کیا گیا اور دونوں ممالک معاشی، زرعی اور سماجی ترقی کے شعبوں میں تعاون کریں گے۔

اس اعلان کے بعد خطے کے کئی ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور اسرائیل پر صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔

یورپی یونین نے بھی اسرائیل کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا اور فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی۔

صومالی لینڈ 1991 میں صومالیہ سے الگ ہوا تھا، تاہم اسے اب تک عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ اسرائیل اقوامِ متحدہ کا پہلا اور واحد رکن ملک بن گیا ہے جس نے صومالی لینڈ کی آزادی کو رسمی طور پر تسلیم کیا۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور کے علاقے داؤدزئی میں مبینہ پولیس مقابلہ، بدنام زمانہ 5 ٹارگٹ کلرز ہلاک

موغادیشو نے اسرائیل کے اقدام کو اپنی خودمختاری پر دانستہ حملہ قرار دیا۔ اس ضمن میں 21 ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم نے مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں اس فیصلے کو خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج ہونے والے ہنگامی اجلاس میں اس فیصلے کے نتائج اور خطے کی سلامتی پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
بین الاقوامی سطح پر اس اقدام پر جاری ردعمل سے خطے میں سفارتی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

Scroll to Top