ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ پارٹی کی جانب سے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق خالدہ ضیا جگر کے سنگین عارضے میں مبتلا تھیں اور کافی عرصے سے اسپتال میں زیر علاج رہیں۔ گزشتہ روز ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا تھا۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ان کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے رکن ڈاکٹر ضیاء الحق نے بتایا کہ خالدہ ضیا کو لائف سپورٹ پر رکھا گیا تھا اور باقاعدگی سے ڈائیلاسس کیا جا رہا تھا۔
ڈاکٹر نے کہا کہ ڈائیلاسس روکنے کی صورت میں ان کی حالت میں نمایاں بگاڑ آ جاتا تھا۔
ڈاکٹر ضیاء الحق نے مزید کہا کہ خالدہ ضیا کی زیادہ عمر اور متعدد پیچیدہ بیماریوں کی وجہ سے ایک ساتھ ہر بیماری کا علاج ممکن نہیں تھا۔
خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں اور وہ ملک کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا اس وقت ہسپتال میں زیر علاج تھیں اور ان کی صحت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی۔
80 سالہ خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو پھیپھڑوں میں انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور، رورل ہیلتھ سینٹر میں زچگی اور نوزائیدہ بچوں کے نئے یونٹ کا افتتاح
سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی جماعت بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر العالمگیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
بنگلہ دیشی انگریزی اخبار دی ڈیلی اسٹار کے مطابق خالدہ ضیا مختلف عارضوں میں مبتلا تھیں، جن میں دل کے مسائل، جگر اور گردوں کی بیماری، ذیابیطس، پھیپھڑوں کی بیماری، جوڑوں کا درد اور آنکھوں سے متعلق امراض شامل تھے۔
پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے خالدہ ضیا کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل بھی کی جاتی رہی تھی۔





