عوام کے لیے خوشخبری: سستی الیکٹرک گاڑیاں جلد مارکیٹ میں آئیں گی

حکومت کی جانب سے درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) پر ٹیکس عائد کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر سالانہ تقریباً 9 ارب ڈالر کے درآمدی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔

یہ بات پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں بتائی گئی، جس کی صدارت سینیٹر خالدہ عتیب نے کی۔

اجلاس میں سینیٹر دانش کمار، سینیٹر سید مسرور احسن، وزارتِ صنعت و پیداوار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام بھی موجود تھے۔

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی ای وی پر ٹیکس نہ ہونے کے برابر یا صفر رکھا جائے گا تاکہ مقامی صنعت کو فروغ مل سکے۔

علاوہ ازیں ای وی پرزہ جات کی درآمد پر اضافی ڈیوٹیز عائد کر دی گئی ہیں جو اب مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں۔

وزارتِ صنعت و پیداوار نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں پر رجسٹریشن فیس کم کریں، ملک بھر میں ایک ہی طرز کی نمبر پلیٹس جاری کریں اور ای وی پر ٹول ٹیکس میں نرمی کریں۔

اجلاس کے دوران ملک میں الیکٹرک موٹر سائیکل، رکشے اور دیگر گاڑیوں کی تیاری کے حوالے سے موجودہ پالیسی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کے تحت اب تک 3 پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 17 اور 2 پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 77 لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کینیڈا جانیوالے پاکستانی شہریوں کیلئے بڑی خوشخبری

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک میں 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں، جس کے لیے سبسڈی کے تحت 22 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں عوام کو فراہم کی جائیں گی۔

ملک میں اس وقت تقریباً 2 کروڑ گاڑیاں اور 2 کروڑ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں، جبکہ رواں سال 1 لاکھ 16 ہزار موٹر سائیکلیں اور 3 ہزار 170 الیکٹرک رکشے عوام کو فراہم کیے جائیں گے۔

مزید یہ کہ آئندہ پانچ سالوں میں کاربن لیوی کے ذریعے 120 ارب روپے حاصل کیے جائیں گے، جو مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دینے کے لیے استعمال ہوں گے۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تعاون سے ون ونڈو آپریشن پر کام جاری ہے اور وہ مینوفیکچررز جنہوں نے برآمدات نہیں کیں، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

اجلاس میں نیو انرجی وہیکلز (NEV) پالیسی 2025-30 پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس کا مقصد گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی میں کمی، فضائی معیار کی بہتری، بجلی کی زائد پیداواری صلاحیت کا مؤثر استعمال اور تیل کی درآمدات میں کمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : تیمرگرہ میڈیکل کالج رول بیک کرنے کا معاملہ،اے این پی کا اہم بیان سامنے آگیا

پالیسی میں مقامی نیو انرجی وہیکلز انڈسٹری کے قیام، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ماحول دوست روزگار کے مواقع اور وفاق و صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

طویل مدتی اہداف کے مطابق 2030 تک نئی فروخت ہونے والی 30 فیصد موٹر سائیکلیں، رکشے، کاریں، بسیں اور ٹرک نیو انرجی وہیکلز ہوں گے، 2040 تک یہ شرح 50 فیصد تک پہنچائی جائے گی، اور 2060 تک نیٹ زیرو ٹرانسپورٹ فلیٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پالیسی میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں ای وی اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی زیادہ ابتدائی قیمت ہے، جسے کم کر کے روایتی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے قریب لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

Scroll to Top