بین الاقوامی امور کے ماہر احمد حسن عربی کے مطابق پاک بھارت کے درمیان ہونے والا مختصر مگر فیصلہ کن تصادم پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی تاثر کو نئی جہت دینے کا باعث بنا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے کردار کو دیگر ابھرتے ہوئے عالمی قطبوں سے ممتاز کرنے والی بنیادی چیز وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے دنیا اسے دیکھ رہی ہے۔
بین الاقوامی سیاست اکثر بتدریج تبدیلی کے بجائے بحران کے لمحات میں رخ بدلتی ہے، اور پاکستان کے لیے مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والی مختصر مگر نہایت اہم جنگ ایسا ہی ایک لمحہ ثابت ہوئی۔
اس تصادم نے محض عسکری توازن کو متاثر نہیں کیا بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت اور دنیا کے اسے دیکھنے کے انداز کو بھی بنیادی طور پر بدل دیا۔
بھارتی جارحیت کو مؤثر طور پر روکنے اور ساتھ ہی خطے کو وسیع تر تصادم سے بچانے میں کامیابی کے ذریعے پاکستان نے اسٹریٹجک عزم اور ضبط کا ایک غیر معمولی امتزاج پیش کیا۔
اس جنگ کے بعد عالمی فورمز پر پاکستان کی سفارتی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوا، اور وہ ایک ردِعمل دینے والے علاقائی کردار سے نکل کر تیزی سے ایک کثیرالقطبی عالمی نظام میں ایک ابھرتے ہوئے قطب کے طور پر سامنے آیا۔
مئی کے واقعات نے محض پاکستان کے اسٹریٹجک ماحول کو نہیں بدلا بلکہ عالمی سیاست میں اس کے مقام کو بھی ازسرِنو متعین کر دیا۔
سیموئل ہنٹنگٹن نے کثیرالقطبی عالمی نظام کے تصور میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ عالمی سیاست اب کسی ایک واحد طاقت کے گرد منظم نہیں رہے گی بلکہ متعدد مراکزِ طاقت کے گرد گھومے گی جہاں ہر مرکز اپنی تہذیبی منطق، اسٹریٹجک تقاضوں اور مفادات سے متحرک ہو گا۔
تاریخی طور پر ہر وہ قطب جو ابھرا، اس نے کسی خاص نظریاتی، معاشی یا سیکیورٹی ایجنڈے کے ذریعے خود کو منوایا۔ امریکا کمیونزم کے خلاف تصادم کے نتیجے میں ایک قطب کے طور پر ابھرا اور بعد ازاں 2001 کے بعد کی مداخلتوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کی تشکیلِ نو اور عالمی تجارتی راستوں و وسائل پر کنٹرول کی کوششوں میں مصروف رہا۔
چین کا عروج ’’چائنا فرسٹ‘‘ معاشی حکمتِ عملی اور عالمی منڈی میں انضمام پر مبنی ہے، جبکہ روس کی دوبارہ واپسی بڑی حد تک نیٹو کی توسیع اور مغربی اسٹریٹجک گھیراؤ کی مخالفت سے جڑی ہوئی ہے۔
اس تبدیلی کا فیصلہ کن لمحہ مئی میں بھارت کے خلاف پاکستان کی کامیاب مزاحمت تھی، جس نے خطے کے اسٹریٹجک حسابات کو بدل دیا۔ پاکستان نے نہ صرف بھارتی بالادستی کی خواہشات کو روکا بلکہ نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان اور میانمار جیسے چھوٹے جنوبی ایشیائی ممالک کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ کشیدگی میں اضافے کے بغیر علاقائی توازن برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
طاقت کی سیاست میں بازداریت اور اعتماد سازی کا یہ دوہرا کردار نایاب ہے اور روایتی اتحاد پر مبنی رویّوں سے پاکستان کی پہلی بڑی علیحدگی کی علامت ہے۔
اس کے فوراً بعد پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت جنوبی ایشیا سے آگے بڑھتی دکھائی دی, امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دی جانے والی غیر معمولی دعوت نے عالمی سیکیورٹی حسابات میں پاکستان کی دوبارہ اہمیت کو واضح کیا۔
چند ہی ہفتوں بعد پاکستان کی قیادت کو چین کی ایک اہم فوجی پریڈ میں بھی مدعو کیا گیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ اسلام آباد کسی ایک بلاک میں ضم ہوئے بغیر بڑی طاقتوں سے متوازن روابط قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حقیقت پسندانہ اصطلاحات میں یہ اسٹریٹجک خودمختاری کی علامت ہے، نہ کہ کسی ایک جانب جھکاؤ کی۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ ختم نہیں ہوا، ایاب احمد کا زورین نظامانی کے مضمون پر جواب
یہ تمام پیش رفتیں مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی حرکیات میں پاکستان کے فعال کردار سے بھی جڑی رہیں، جن میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ممکنہ وسیع تر تصادم کو روکنے کی علاقائی کوششیں، سعودی عرب کے ساتھ سیکیورٹی تعاون، اور خطے کے مجموعی توازن میں شمولیت شامل ہے۔
فیلڈ مارشل کے حالیہ دورۂ لیبیا اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق تعاون پر ہونے والی بات چیت نے بھی پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور سیکیورٹی اثر و رسوخ کو نمایاں کیا۔
پاکستان کے کردار کو دیگر ابھرتے ہوئے قطبوں سے ممتاز کرنے والی بنیادی بات وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے اسے دیکھا جا رہا ہے۔ روایتی طاقت کے مراکز کے برعکس، پاکستان کو بتدریج ایک ’’نیٹ سیکیورٹی فراہم کرنے والے‘‘ ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ تاثر اس تصور سے ہم آہنگ ہے جسے نوم چومسکی نے بین الاقوامی تعلقات میں ایک ’’نایاب اخلاقی استثنا‘‘ قرار دیا تھا—یعنی ایسا ریاستی کردار جس کا اثر جبر کے بجائے ضبط سے پیدا ہو۔
ایک ایسی دنیا میں جہاں دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے زیادہ فعال تنازعات جاری ہیں، مہاجرین کی بے مثال نقل مکانی ہو رہی ہے، اور متعدد جنگی محاذ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، پاکستان کا امن اور استحکام پر زور غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ جہاں زیادہ تر قطبوں کو اپنے مفادات کی عینک سے دیکھا جاتا ہے، وہیں پاکستان کو توازن کی آواز کے طور پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی قیادت، بالخصوص عسکری قیادت، کی جانب سے بیانیے میں دانستہ تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ دہائیوں تک پاکستان کو سادہ اور دوٹوک سوالات میں قید رکھا گیا۔
امریکا یا چین، مشرق یا مغرب، بائیں یا دائیں۔ اب اس بیانیے کی جگہ نتائج پر مبنی سفارت کاری نے لے لی ہے، جس میں ثالثی، کشیدگی کے بغیر مزاحمت، اور بالادستی کے بغیر سیکیورٹی کی فراہمی شامل ہے۔
ہنٹنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ کثیرالقطبی نظام فطری طور پر غیر مستحکم ہوتے ہیں، جب تک کہ قطب ضبط کا مظاہرہ نہ کریں۔ پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار اسی ضبط کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اس کی طاقت نہ تو معاشی جبر میں مضمر ہے اور نہ ہی کسی نظریاتی پھیلاؤ میں، بلکہ اس صلاحیت میں ہے کہ وہ تنازعات کی دراڑوں کو جوڑے رکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا قطب نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہے۔
جیسے جیسے 2025 اختتام کو پہنچ رہا ہے اور دنیا 2026 میں داخل ہو رہی ہے، یہ سفر مزید تیزی پکڑنے کا امکان رکھتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں اثر و رسوخ اکثر برف کے گولے کی مانند بڑھتا ہے۔
ساکھ مشغولیت کو جنم دیتی ہے، مشغولیت اعتماد پیدا کرتی ہے، اور اعتماد طاقت میں ڈھل جاتا ہے، جنگ، انتشار اور غیر یقینی کے اس دور میں وہ قطب جو امن اور استحکام کی بات کرتا ہے، اکثر سب سے مضبوط آواز بن کر ابھرتا ہے۔





