پاکستان میں 10 کروڑ موبائل اچانک بند، بڑی وجہ سامنے آ گئی

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون ڈیوائسز کی رجسٹریشن کے نظام کے تحت گزشتہ 6 برسوں میں 83 ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کر لیا ہے، جبکہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 10 کروڑ موبائل ڈیوائسز بلاک کی گئیں۔

پی ٹی اے کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ موبائل ڈیوائسز بلاک کی گئیں، جن میں 8 لاکھ 68 ہزار گمشدہ یا چوری شدہ موبائل فون شامل تھے۔

اس کے علاوہ 2 کروڑ 70 لاکھ ایسی ڈیوائسز بھی بلاک کی گئیں جن میں ڈپلیکیٹ یا کلون شدہ آئی ایم ای آئی نمبرز پائے گئے۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2019 سے اب تک موبائل ڈیوائس رجسٹریشن کے ذریعے حکومت کو مجموعی طور پر 83 ارب روپے سے زائد کی آمدن حاصل ہوئی۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ڈی آئی آر بی ایس (Device Identification, Registration and Blocking System) کے نفاذ سے موبائل ڈیوائس مینجمنٹ کا نظام مزید مضبوط ہوا ہے اور جعلی و غیر معیاری موبائل فونز کی درآمد کو مؤثر انداز میں روکا گیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں موبائل مارکیٹ کو دستاویزی شکل ملی اور حکومتی ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایم ڈی ایم ریگولیشنز 2021 کے تحت موبائل فون اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوئی جبکہ مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ کو فروغ ملا۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان نے ٹکراؤ کا راستہ نہ بدلا تو پی ٹی آئی اور پختونخوا حکومت متاثر ہوں گی، رانا ثناء

اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 تک پاکستانی نیٹ ورکس پر استعمال ہونے والے 95 فیصد سے زائد موبائل فون مقامی طور پر تیار کردہ تھے، جبکہ ملک میں استعمال ہونے والے 68 فیصد اسمارٹ فونز بھی مقامی سطح پر تیار کیے گئے۔

پی ٹی اے دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ڈی آئی آر بی ایس کے تسلسل سے پاکستان میں ایک محفوظ، شفاف اور خود کفیل ڈیجیٹل ایکو سسٹم تشکیل پایا ہے، اور ملک خطے کی موبائل فون ویلیو چین میں شامل ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

Scroll to Top