اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں اصلاحات کو تیز کرنا ضروری ہے۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت نجکاری کمیشن کے امور پر اجلاس منعقد ہوا جس میں کمیشن میں جاری اصلاحات، پبلک ریلیشنز اور مارکیٹنگ کے شعبوں کی مضبوطی، اور نجکاری کے عمل کو ڈیجیٹائز کرنے کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو ابتدائی طور پر دو بیچز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلے بیچ میں آئیسکو، کیپکو اور فیسکو شامل ہیں، جبکہ دوسرے بیچ میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی شامل ہوں گی۔
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ نجکاری کے منصوبوں میں بہترین صلاحیتوں والے نجی شعبے کے ماہرین اور مارکیٹ کے تجربہ کار افراد کو تعینات کیا جائے اور تمام تر تقرریاں شفاف انداز میں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری کے ہر منصوبے کا عالمی معیار کی فرم سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان ،بنگلہ دیش کے ایئر چیفس کی ملاقات، دفاعی تعلقات کی مضبوطی کے لیے طویل المدتی شراکت داری کا اعلان
شہباز شریف نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری کو بارش کا پہلا قطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خسارے کا شکار اداروں کی نجکاری سے ملک کی معیشت مستحکم ہوگی اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جائیں گی۔
نجکاری کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ اصلاحات کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور تمام منصوبوں کو عالمی معیار کے مطابق چلایا جائے تاکہ سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار بنایا جا سکے۔





