اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی منظوری،اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری

وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 9 دسمبر 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس فیصلے کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کو مخصوص دو اسکیموں کے ذریعے تین سال پرانی استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے ای سی سی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق یہ منظوری وزارتِ تجارت کی پیش کردہ سمری کی بنیاد پر دی گئی، جس میں گاڑیوں کی درآمد سے متعلق پالیسی میں تبدیلیوں کی تجویز شامل تھی۔ نئی پالیسی کے مطابق صرف ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیم کو برقرار رکھا گیا ہے۔

پالیسی میں کی گئی ترمیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد کے لیے قابلِ قبول مدت کو دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دیا گیا ہے، تاہم درآمد کی جانے والی گاڑی ایک سال تک فروخت یا منتقل نہیں کی جا سکے گی۔

زرائع کا کہنا ہےکہ کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں وزارتِ قانون جیسے ہی متعلقہ ایس آر او کی منظوری دے گی، اسے وزارتِ تجارت کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 24 اکتوبر 2025 کو ای سی سی کے اجلاس میں اس سمری پر ابتدائی غور کیا گیا تھا اور وزارتِ تجارت کو ہدایت کی گئی تھی کہ بین الوزارتی مشاورت کے بعد معاملہ دوبارہ حتمی فیصلے کے لیے پیش کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں :

بعد ازاں ہونے والے بین الوزارتی اجلاس میں ایف بی آر، وزارتِ صنعت و پیداوار اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ اوورسیز پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں دو بنیادی نکات پر تفصیلی بحث کی گئی، جن میں یہ طے کرنا شامل تھا کہ کون سی اسکیمیں برقرار رکھی جائیں اور ان کے لیے کن شرائط کا اطلاق ہوگا۔

وزارتِ تجارت اور ایف بی آر نے ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیم کو جاری رکھنے کی حمایت کی، جبکہ وزارتِ صنعت و پیداوار اور ای ڈی بی نے گفٹ اور پرسنل بیگیج اسکیم ختم کرنے کی سفارش کی ،یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان اسکیموں کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال سامنے آ رہا ہے۔

Scroll to Top