اب ڈرائیور کی ضرورت نہیں، دبئی نے خودکار ٹیکسیوں کے لیے پرمٹ جاری کر دیا

دبئی نے اسمارٹ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اور نمایاں سنگِ میل عبور کرتے ہوئے بغیر ڈرائیور ٹیکسیوں کے لیے پہلا کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر قائم کر دیا ہے۔

یہ جدید مرکز چینی ٹیکنالوجی کمپنی بائیڈو اپولو گو کا چین سے باہر اپنی نوعیت کا پہلا آپریشنل مرکز ہے جو مصنوعی ذہانت اور جدید شہری نقل و حمل میں دبئی کی عالمی قیادت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور بورڈ کے چیئرمین مطر الطائر اور بائیڈو کے کارپوریٹ نائب صدر یون پینگ وانگ نے جمعرات کے روز دبئی سائنس پارک میں قائم دو ہزار مربع میٹر پر مشتمل اس مرکز کا افتتاح کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کمرشل بنیادوں پر خودکار ٹیکسی سروسز کا آغاز 2026 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے جبکہ مرحلہ وار طور پر گاڑیوں کی تعداد بڑھا کر ایک ہزار تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔

یہ مرکز خودکار گاڑیوں کی مکمل نگرانی اور آپریشن کے لیے قائم کیا گیا ہے جہاں کمانڈ اینڈ کنٹرول روم، سمیولیشن اور تربیتی ہالز، آپریشن اور مینٹیننس سہولیات موجود ہیں، یہاں گاڑیوں کی سیفٹی جانچ، سافٹ ویئر اپڈیٹس، چارجنگ، مرمت اور ہنگامی ردعمل جیسے تمام امور انجام دیے جائیں گے۔

آر ٹی اے نے بائیڈو اپولو گو کو دبئی کا پہلا مکمل خودکار ڈرائیونگ ٹرائل پرمٹ بھی جاری کر دیا ہے جس کے تحت مخصوص عوامی سڑکوں پر بغیر کسی سیفٹی ڈرائیور کے گاڑیاں چلائی جا سکیں گی، یہ اقدام دبئی میں خودکار ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نادرا کے پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے دستاویزات کی اپ لوڈنگ کا طریقہ جائنے

افتتاح کے موقع پر مطر الطائر نے کہا کہ چین سے باہر اپولو گو کا پہلا آپریشن سینٹر دبئی میں قائم ہونا عالمی کمپنیوں کے دبئی کے جدید قوانین اور اسمارٹ انفراسٹرکچر پر اعتماد کا مظہر ہے۔

بائیڈو حکام کے مطابق دبئی کا معاون قانونی فریم ورک اور جدید انفراسٹرکچر اپولو گو کی عالمی توسیع میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

Scroll to Top