پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ قومی پالیسی میں ابہام پیدا کرے،وزیرمملکت طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نےکہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کراچی میں ایک بار پھر کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے ثبوت دینے چاہئیں۔

اسلام آباد میںمیڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھاکہ کالعدم تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور کئی ممالک افغانستان میں دہشت گردی کی نشاندہی کر چکے ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے آئی جی سے پوچھیں کہ تشکیلوں میں کیا 77 فیصد افغان شہری نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اپنے آئی جی سے پوچھیں کہ تشکیل میں کون لوگ آتے ہیں۔ دہشت گرد آتے ہیں اور کارروائی کرکے چھپ جاتے ہیں اور یہ ابہام پیدا کرتے ہیں۔ یہ غیر قانونی افغانوں کو واپس بھیجنا نہیں چاہتے، اس نرم رویے کی کوئی تو وجہ ہوگی۔

وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ قومی پالیسی میں ابہام پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جان بوجھ کر ابہام پیدا کرتے ہیں تاکہ کالعدم ٹی ٹی پی یا دیگر دہشت گرد گروپس آپریٹ ہو سکیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ 11 سال میں پی ٹی آئی کے کسی عہدیدار یا اہم رہنما پر حملہ نہیں ہوا۔پی ٹی آئی کا ترجمان آج بھی دہشت گردوں کی کھل کر مذمت نہیں کرتا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی ہماری فورسز کے ساتھ کھل کر کھڑی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی فائدے اور بزدلی کی وجہ سے یہ دہشت گردی کے خلاف کھڑے نہیں ہونا چاہتے۔

وزیر مملکت داخلہ نے مزید کہا کہ قومی بیانیے کے خلاف کوئی بھی گفتگو یا ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ یا سیاسی تحریک چلائیں، لیکن ملکی استحکام کے خلاف رویہ ناقابل برداشت ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ آپ کو اٹھا کر بھی وہاں پھینکیں گے جہاں سے وہ دہشت گرد آ رہے ہیں۔ اگر آپ کو اتنی ہمدردی ہے تو افغانستان تشریف لے جائیں۔

Scroll to Top