اسلام آباد: چین نے تصدیق کی ہے کہ اس کے جدید J-10CE لڑاکا طیارے نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختصر فوجی تنازع کے دوران پہلی جنگی کامیابی حاصل کی۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق یہ کامیابی مئی کے وسط میں حاصل ہوئی، جب J-10CE طیاروں نے فضائی لڑائی کے دوران بغیر کسی نقصان کے متعدد دشمن طیارے مار گرائے۔
ژنہوا نے چین کی ریاستی انتظامیہ برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعت برائے قومی دفاع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اگرچہ کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا، تاہم یہ کارروائی J-10CE کی پہلی عملی جنگی آزمائش ثابت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق اس کامیابی نے ثابت کر دیا کہ چین میں تیار کردہ ہوابازی کا ساز و سامان نہ صرف قابلِ اعتماد ہے بلکہ عالمی سطح پر موجود مغربی ٹیکنالوجی کا مؤثر متبادل بھی ہے۔
واضح رہے کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ شدید فوجی تعطل کے دوران دونوں ممالک نے میزائلوں، لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور توپ خانے کا استعمال کیا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں جانب تقریباً 70 افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستان نے اس تعطل میں فتح کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں سمیت بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے، جبکہ بھارت نے نقصانات کو تسلیم کیا تاہم تعداد ظاہر نہیں کی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس تنازع نے دنیا کو پہلی مرتبہ عملی طور پر یہ دکھایا کہ چین کی جدید عسکری ٹیکنالوجی ثابت شدہ مغربی دفاعی نظام کے مقابلے میں کس حد تک مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
J-10CE ایک ہمہ موسمی، سنگل انجن اور ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جسے چین نے مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیا ہے۔
چین جو گزشتہ چار دہائیوں میں کسی بڑی جنگ میں شامل نہیں ہوا، صدر شی جن پنگ کی قیادت میں اپنی افواج کو تیزی سے جدید بنانے میں مصروف ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ چین نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بھی تعاون بڑھایا ہے، جسے بیجنگ اپنا آہنی پوش بھائی قرار دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاک بھارت جنگ، ایک ایسا لمحہ جس نے عسکری توازن، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی تاثر کو نئی سمت دے دی، احمد حسن عربی
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں ماہ کہا تھا کہ مئی کے تنازع کے بعد پاکستانی ساختہ اور مشترکہ طور پر تیار کردہ لڑاکا طیاروں میں عالمی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر یہ آرڈرز عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو پاکستان مستقبل میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر انحصار ختم کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔
پاکستان اس وقت چین کے تعاون سے تیار کردہ JF-17 تھنڈر کی عالمی سطح پر مارکیٹنگ کر رہا ہے، جو کم لاگت اور ملٹی رول صلاحیتوں کے باعث کئی ممالک کی توجہ حاصل کر چکا ہے۔
JF-17 طیاروں کے آذربائیجان کے ساتھ معاہدے ہو چکے ہیں جبکہ لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ چار ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔
پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ بھی دفاعی تعاون بڑھانے پر غور کر رہا ہے، جس میں سپر مشاق تربیتی طیارے اور JF-17 شامل ہو سکتے ہیں۔





