واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے پر ضرورت پڑنے کی صورت میں فوجی طاقت کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتکاری کو ترجیح دیتے رہے ہیں، تاہم اگر حالات کا تقاضا ہوا تو فوجی آپشن استعمال کرنے سے بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی، اور ایرانی حکومت اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔
وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ آئندہ کیا قدم اٹھائیں گے، اس کا فیصلہ صرف وہ خود کریں گے اور اس حوالے سے کسی پیشگی حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔
کیرولین لیوٹ کے مطابق ایران کی جانب سے عوامی اور نجی سطح پر دیے جانے والے پیغامات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت ایک طرف عوامی سطح پر ایک مؤقف اپناتی ہے، جبکہ دوسری جانب نجی طور پر امریکا اور ٹرمپ انتظامیہ کو مختلف نوعیت کے پیغامات ارسال کر رہی ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ان نجی بات چیت کی تفصیلات یا نوعیت سے متعلق مزید وضاحت فراہم نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ نے ایران کو کھلا پیغام دے دیا: مظاہرین کی جانوں کا خون بے جواب نہیں رہے گا
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف کارروائی کی صورت میں ایک بار پھر تہران کو سخت وارننگ دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکہ ایران کو بھرپور اور سخت جواب دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کو واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ مظاہرین کو نقصان پہنچانے کی صورت میں امریکا خاموش نہیں بیٹھے گا۔
انٹرویو میں جب میزبان نے کہا کہ مظاہروں کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ بعض اموات بھگدڑ کے باعث ہوئی ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا نتیجہ ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر موت کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو نہیں ٹھہرا سکتے، لیکن ایران کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اسے بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے مظاہرین کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا آپ آزادی کے لیے کھڑے ہیں





