پشاور: خیبرپختونخوا میں گزشتہ برسوں سے بد امنی، مہنگائی اور مالی بحران نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہوا ہے، جبکہ پورے صوبے میں تعلیمی نظام غیر مستحکم ہے۔
صورتحال خصوصی طور پر ضم اضلاع میں انتہائی نازک ہے، جہاں بنیادی تعلیمی ڈھانچے کا فقدان اور انتظامی کمزوریاں نمایاں ہیں۔
ان حالات میں صوبائی اسمبلی کے رکن نثار باز خان نے مادری زبانوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروا دیا ہے۔
نثار باز خان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لینگوجز اتھارٹی ایکٹ 2012 کو فوری طور پر فعال کیا جائے تاکہ بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق فراہم کیا جا سکے۔
نثار باز خان نے کہا کہ صوبہ بھر میں بولی جانے والی علاقائی زبانیں جیسے پشتو، ہندکو، سرائیکی، کھوار اور کوہستانی نصاب میں شامل کی جائیں اور تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ ثقافتی شناخت کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ 2012 میں منظور شدہ قانون کے تحت ایک اتھارٹی قائم کی گئی تھی جو علاقائی زبانوں کی ترقی اور نصاب کی تیاری کے لیے ذمہ دار تھی، لیکن گزشتہ 13 برسوں میں اس قانون پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو یہ حق حاصل نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں : بدامنی کی وجہ سے وزیراعلی کے آبائی ضلع میں تیراہ سے عوام نقل مکانی کررہے ہیں،اے این پی
نثار باز خان نے صوبے میں تعلیمی نظام کی خرابی پر بھی زور دیا اور کہا کہ ضم اضلاع میں اسکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے، استادوں کی کمی، بنیادی سہولیات کی غیر موجودگی اور انتظامی ناکامیوں نے بچوں کی تعلیم کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی بحران کے ساتھ ساتھ صوبہ مہنگائی اور مالی بحران کا شکار ہے، جس کی وجہ سے عام شہری روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ ہر بچے کا حق ہے کہ وہ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرے، اور موجودہ قوانین کو عملی طور پر نافذ کرنا اس مقصد کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مادری زبان میں تعلیم نہ صرف تعلیمی معیار بہتر کرے گی بلکہ صوبے کی ثقافتی شناخت اور عوام کی خودمختاری کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
نثار باز خان کے مطابق یہ اقدام صوبہ کے تعلیمی اور لسانی تنوع کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم ہے اور اس پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ ضم اضلاع کے بچے بھی معیاری تعلیم کے مستحق بن سکیں۔





