صوبائی حکومت کابڑا فیصلہ!غیر قانونی تعمیرات ختم، نقشہ جات اور این او سیز کا نیا نظام نافذ

صوبائی حکومت کابڑا فیصلہ!غیر قانونی تعمیرات ختم، نقشہ جات اور این او سیز کا نیا نظام نافذ

صوبے میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑا فیصلہ، لینڈ یوز اور بلڈنگ قوانین پر سخت عملدرآمد کا آغاز

تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے غیر منظم تعمیرات اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے لینڈ یوز اور بلڈنگ کنٹرول سے متعلق قوانین پر مؤثر عملدرآمد کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کو واضح اور سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ تعمیراتی عمل مکمل طور پر قانون کے دائرے میں آئے۔

صوبائی لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے لوکل پلاننگ اینڈ انفورسمنٹ یونٹس کو لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول ایکٹ 2021 پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے تحت نقشہ جات کی منظوری، این او سیز کے حصول اور تعمیراتی منصوبوں کے عمل کو مکمل طور پر قانونی دائرہ کار میں لانا لازمی ہوگا۔

مراسلے میں تمام چیف پلاننگ کنٹرول افسران کو نقشہ جات کی منظوری کے طریقہ کار سے متعلق با ضابطہ ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت لوکل پلاننگ اینڈ انفورسمنٹ یونٹس کے فرائض اور ذمہ داریاں متعین ہیں اور ان پر مکمل عملدرآمد لازم ہے۔

اہم یہ ہے کہ کسی بھی تعمیراتی درخواست کی منظوری صرف اسی صورت میں دی جائے گی جب وہ بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن میں درج معیار اور ضوابط پر پوری اترتی ہو، جس کے بعد چیف پلاننگ کنٹرول افسر منظوری کے مجاز ہوں گے۔ اس کے علاوہ، منظور شدہ بلڈنگ پلان اور حاصل کردہ این او سیز کی نقول مرکزی دفتر میں ریکارڈ کے لیے جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مزید ہدایات کے مطابق، لوکل پلاننگ اینڈ انفورسمنٹ یونٹس اپنی سطح پر قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائیں اور لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول ایکٹ 2021 کی تمام متعلقہ شقوں پر ہر صورت عملدرآمد کو ممکن بنائیں۔ ساتھ ہی، بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن 2024 کے نفاذ کی بھی ہدایت دی گئی ہے، تاہم اس کے لیے شرط یہ عائد کی گئی ہے کہ تعمیرات سے قبل تمام متعلقہ محکموں سے ضروری این او سیز حاصل کی جائیں۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ غیر قانونی تعمیرات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ختم کرنے اور شہری منصوبہ بندی کو منظم بنانے کے لیے تاریخی قدم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ تعمیراتی نظام مکمل طور پر شفاف اور قانونی دائرہ کار میں رہے۔

Scroll to Top