وفاقی ادارہ برائے محاصل (ایف بی آر) نے سمگلنگ اور غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کے مؤثر سدباب کے لیے ایک جامع اور جدید نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد اشیائے خورونوش، قیمتی سامان اور دیگر مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حمل اور تجارت پر کڑی نظر رکھنا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کو مکمل قانونی اختیارات حاصل ہوں گے، جن کے تحت سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں کی جا سکیں گی اور غیر قانونی اشیاء کو ضبط کرنے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کے نفاذ سے نہ صرف قومی خزانے کو پہنچنے والے اربوں روپے کے نقصان میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ منظم سمگلنگ نیٹ ورکس کو بھی توڑنے میں مدد ملے گی۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ ایف بی آر نے اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 10 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں قائم موجودہ چیک پوسٹوں کو مرحلہ وار ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز میں تبدیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان ڈیجیٹل اسٹیشنز کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، کیمروں اور خودکار نظام سے لیس کیا جائے گا تاکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم رکھا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈیجیٹل انفورسمنٹ سسٹم کے تحت عملے کے لیے واضح قواعد و ضوابط، آپریشنل فریم ورک اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سمگلنگ کے خلاف ایک فیصلہ کن قدم ثابت ہوگا اور اس سے نہ صرف قانونی تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔





