خیبرپختونخوا حکومت کا غیر قانونی طورپرمقیم افغان مہاجرین کے خلاف سخت کاروائی کا آغاز

خیبرپختونخوا حکومت کا غیر قانونی طورپرمقیم افغان مہاجرین کے خلاف سخت کاروائی کا آغاز

محمد اعجاز آفریدی
پشاور:غیر قانونی افغان مہاجرین کے معاملے پر وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤکے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف سخت حکم نامہ جاری کرتے ہوئے افغان مہاجرین کی بے دخلی پر افسران کی ہفتہ وار رپورٹنگ لازمی قرار دے دی ہے۔ اب یہ رپورٹیں باقاعدگی سے وزارت داخلہ کو ارسال کی جائیں گی، جبکہ غیر قانونی غیر ملکیوں کے انخلا سے متعلق متعلقہ افسران کی ہفتہ وار پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سے قبل خیبرپختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں ہو رہی تھیں، جس پر وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو متعدد بار متنبہ کیا اور وفاقی پالیسیوں پر عملدرآمد کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں : خبیرپختونخوا میں گرج چمک کیساتھ بارش اور شدید برفباری کی پیشگوئی،این ڈی ایم کاالرٹ جاری

دستیاب شواہد کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے اب غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے منصوبے ایلیگل فارنرز ریپیٹری ایشن پلان (آئی ایف آر پی) کے تحت افغان مہاجرین کی بے دخلی کا عمل تیز کر دیا ہے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے تمام متعلقہ افسران اور محکموں کو ہدایت کی ہے کہ افغان مہاجرین کی بے دخلی کے عمل کا ہر ہفتے جائزہ لیا جائے اور پیش رفت کی رپورٹ وزارت داخلہ کے ساتھ شیئر کی جائے۔

اس سلسلے میں چیف سیکرٹری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کی تمام تفصیلات محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کی جانب سے وزارت داخلہ کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کی جانب سے سیکرٹری وزارت داخلہ کے نام جاری مراسلے کے مطابق صوبائی حکومت نے آئی ایف آر پی کے تحت اب تک 9 لاکھ 86 ہزار 500 سے زائد غیر قانونی غیر ملکیوں کو وطن واپس بھیج دیا ہے۔

مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ 13 جنوری 2026 کو چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیر صدارت اجلاس میں منصوبے کی مرحلہ وار پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری ریلیف، تمام کمشنرز اور ریجنل پولیس افسران نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں : عرب ممالک کی پاکستانیوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی،حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی

دستاویز کے مطابق 12 جنوری 2026 تک وطن واپس بھیجے گئے افراد میں 6 لاکھ 86 ہزار 259 غیر قانونی غیر ملکی شامل ہیں جو کسی قسم کی دستاویزات کے حامل نہیں تھے، جبکہ 71 ہزار 293 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور 2 لاکھ 28 ہزار 948 پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ ہولڈرز کو بھی وفاقی پالیسی کے مطابق مختلف مراحل میں واپس بھیجا گیا۔

مراسلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں قائم 43 افغان مہاجر کیمپ مرحلہ وار ڈی نوٹیفائی کر دیے گئے ہیں، یہ عمل ستمبر اور اکتوبر 2025 کے دوران مکمل ہوا۔ ڈی آئی خان، بنوں، ٹانک، نوشہرہ اور لوئر چترال میں قائم پانچ کیمپ مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں، جبکہ صرف کیمپوں سے ہی 1 لاکھ 1 ہزار 428 افراد کی وطن واپسی عمل میں لائی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے کیمپوں کی زمین اور منقولہ و غیر منقولہ اثاثوں، بشمول اسکولوں اور صحت مراکز، کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ واپس جانے والے افراد کو کیمپوں اور شہری علاقوں دونوں سے مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مختلف مقامات پر ٹرانزٹ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں جہاں خوراک، پانی، طبی سہولیات اور عارضی قیام کا انتظام موجود ہے، جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر راستوں اور قافلوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق صوبائی حکومت اب تک 275 ملین روپے اپنے وسائل سے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور انتظامی امور پر خرچ کر چکی ہے جبکہ 369 ملین روپے ڈپٹی کمشنرز کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ کیمپوں کے انخلا کے عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے وطن واپسی کی رفتار سست ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام ڈویژنل کمشنرز ضلعی حالات کے مطابق تاریخ وار اور مرحلہ وار ریپیٹری ایشن پلان 48 گھنٹوں میں مرتب کریں۔ پیش رفت کا ہفتہ وار جائزہ لیا جائے گا اور رپورٹ وزارت داخلہ کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔

Scroll to Top