بانی پی ٹی آئی اور محمود اچکزئی کی دوستی 2 ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی، اختیار ولی کا دعویٰ

وزیراعظم شہبازشریف کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور محمود اچکزئی کے درمیان دوستی دو ماہ سے زیادہ برقرار نہیں رہے گی۔

نجی ٹی میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی کا کہنا تھا کہ عمران خان یہ سمجھتے تھے کہ حکومت محمود اچکزئی کی تعیناتی سے پیچھے ہٹ جائے گی، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

اختیار ولی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض سینئر رہنماؤں کو اس بات پر شدید تحفظات تھے کہ پارٹی بانی کو نظرانداز کر کے کسی اور شخصیت کو عہدہ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ارکان نے اسپیکر کے سامنے بھی محمود اچکزئی کی تعیناتی پر اعتراضات اٹھائے اور عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

پی ٹی آئی کے اندر یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ بانی پارٹی کے باہر سے کسی شخص کو لا کر ارکان پر مسلط کیا جا رہا ہے۔

اختیار ولی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ پی ٹی آئی کو محمود اچکزئی کی تعیناتی پر مبارکباد دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: محمود خان اچکزئی کا ن لیگ سے تعلقَ؟ فواد چودھری نے کھل کر بیان دے دیا

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا ہے کہ محمود اچکزئی کی نامزدگی پی ٹی آئی کی صوابدید ہے اور پارٹی عمران خان کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ ارکان کے پاس مینڈیٹ بھی انہی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں ارکان پر دباؤ تھا کہ اچکزئی کے نام سے دستبردار ہو جائیں، تاہم بعد میں یہ تاثر دیا گیا کہ نوٹیفکیشن نواز شریف کے کہنے پر ہوا۔

شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف عملی طور پر سیاست میں غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور ان کا کوئی فیصلہ کن کردار باقی نہیں رہا جبکہ پی ٹی آئی اپنے مؤقف اور قیادت کے ساتھ کھڑی ہے۔

Scroll to Top