ایک ملک غزہ میں سیکیورٹی فراہم کرنے پر تیارہے،ٹرمپ کاقبرص کی طرف اشارہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایک ملک نے غزہ میں سیکیورٹی فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

 عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایک ملک کی جانب سے غزہ کی سیکیورٹی کی پیشکش کی ہےتاہم انہوں نے اپنی تقریر کے دوران اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ملک قبرص ہے، جس نے غزہ کی سیکیورٹی کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی آفر کی ہے۔ تاہم امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے لانا قبل از وقت ہوگا۔

بتایا گیا ہے کہ جن ممالک کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، ان سب کی  جانب سے واضح موقف سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر باضابطہ طور پر تفصیلات دنیا کے سامنے رکھی جائیں گی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دو روز قبل قبرص کو غزہ امن معاہدہ کا حصہ بننے کی باضابطہ طور پر دعوت دی گئی تھی۔

یونان کے دارالحکومت ایتھنز اور قبرص کے دارالحکومت نکوسیا میں حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ یونانی وزیر اعظم کیریاکوس متسوتاکس اور قبرصی صدر نیکوس کرسٹوڈولائیڈس کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت موصول ہو چکی ہے۔
عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں قیامِ امن کے لیے اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ جن ممالک کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی، ان میں سے بیشتر ممالک کی جانب سے بورڈ میں شامل ہونے کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔ ان کے مطابق عالمی امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس کے بانی اراکین کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ یونانی میڈیا ادارے کے مطابق اس کونسل کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

 بانی اراکین میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور صدر ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

اس کے علاوہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہوں گے۔ دیگر بانی ایگزیکٹو اراکین میں اپولو گلوبل مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو مارک روون اور سینئر صدارتی مشیر رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔اس حوالے سے بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ دعوت ناموں کی فہرست ان افراد کی معلومات اور سوشل میڈیا پوسٹس پر مبنی ہے جو اس معاملے سے واقف ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق تمام ممالک کی جانب سے دعوت نامے موصول ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی اور یہ فہرست مکمل نہیں ہے۔

بلومبرگ کی جانب سے شیئر کی گئی فہرست میں شامل ممالک میں البانیہ، ارجنٹینا، آسٹریلیا، آسٹریا، بحرین، چین، قبرص، مصر، یونان، بھارت، اٹلی، پاکستان، سنگاپور اور ترکیہ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت قبول کر لی ہے۔ اسی طرح ترکیہ نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فدان 22 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ بورڈ آف پیس چارٹر پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

Scroll to Top