کراچی: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں اے این پی کو دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا اور اب خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کو گھر بھیجنا ضروری ہے۔
کراچی میں اے این پی سندھ کے زیرِ اہتمام فخرِ افغان باچا خان کی 38ویں اور قائدِ جمہوریت خان عبدالولی خان کی 20ویں برسی کے موقع پر عظیم الشان جلسہ عام منعقد کیا،جس مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے خطاب کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دھاندلی کے باوجود اے این پی عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور پختون قوم کی حقیقی نمائندگی کرتا ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ دہشت گردوں کے حامیوں کو سزا دی جائے اور دہشت گردوں کو لانے والوں کو قوم کا مجرم قرار دیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے ساتھ سہولت کاروں کے خلاف بھی فوری کارروائی کی جائے۔
کراچی میں باچا خان کی برسی کے جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ اے این پی ختم ہو گئی ہے، وہ دیکھ لیں کہ باچا خان اور ولی خان کو سیاست میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ایمل ولی خان نے زور دیا کہ آج کراچی کے پختونوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اے این پی کے ساتھ ہیں اور یہ کہنا درست نہیں کہ پختون قوم طالبان یا پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کے دعوے بے بنیاد، ان کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور ذاتی و سیاسی مفادات حاصل کرنا ہے، عطا تارڑ
انہوں نے تیراہ کے لوگوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے لوگ بے یارو مددگار اپنے گھروں کو خالی کر رہے ہیں، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وفاقی حکومت کے لیے خیبرپختونخوا کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
انہوں نے انسانی حقوق کی پامالی پر خاموشی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ تیراہ کے لوگوں کو ان کے مستقبل کی ذمہ داری دینا لازمی ہے۔
ایمل ولی خان نے پورے پاکستان میں امن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں پختون کراچی، لاہور اور بلوچستان میں رہتے ہیں اور ان کے حقوق کا دفاع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پختون قوم کے لیے ایک پُرامن پاکستان ضروری ہے کیونکہ دہشت گرد قوم اور ریاست کے دشمن ہیں۔





