چائے ہمارے روزمرہ معمولات کا لازمی حصہ بن چکی ہے، چاہے وہ صبح کی تازگی کے لیے ہو یا دوستوں کے ساتھ گپ شپ کے دوران۔
لیکن ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ چائے نوشی جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق چائے میں کیفین موجود ہوتی ہے، جو وقتی طور پر توانائی اور چستی فراہم کرتی ہے، مگر زیادہ مقدار میں بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونا، گھبراہٹ، سر درد اور چکر آنے جیسے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
نیند پر اثرات:
زیادہ چائے پینے کی وجہ سے نیند کے معمولات متاثر ہو سکتے ہیں۔ شام یا رات کے وقت چائے پینے والے افراد کو بے خوابی، بار بار آنکھ کھلنے یا سونے میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ کیفین کا اثر کئی گھنٹے برقرار رہتا ہے۔
معدے اور ہاضمہ:
خالی پیٹ چائے پینا معدے میں تیزابیت اور بدہضمی بڑھا سکتا ہے، جس سے معدے میں جلن کے مسائل جنم لیتے ہیں۔
آئرن اور ہڈیوں پر اثر:
چائے میں موجود ٹیننز اجزاء آئرن کے جذب کو روک سکتے ہیں، جس سے خون کی کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر خواتین اور کمزور افراد میں۔
زیادہ کیفین کی وجہ سے جسم سے کیلشیم کے اخراج میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، جو طویل مدتی ہڈیوں کی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔
دانت اور منہ کی صحت:
چائے کے قدرتی رنگ دانتوں پر داغ ڈال سکتے ہیں اور بہت گرم چائے پینے کی عادت مسوڑھوں کو حساس بنا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پلاسٹک بوتل پر پانی پینے والے خبردار
روزانہ کتنی چائے مناسب؟
ماہرین غذائیت کے مطابق بالغ افراد کے لیے دن میں دو سے تین کپ چائے پینا مناسب ہے۔ اس سے زیادہ پینے پر جسمانی ردعمل پر نظر رکھنا ضروری ہے، اور اگر بے چینی، بدہضمی یا نیند کی خرابی محسوس ہو تو چائے کی مقدار کم کر دی جائے۔
صحت مند چائے نوشی کے لیے مشورے:
چائے کو متوازن انداز میں پینا صحت کے لیے بہتر ہے۔ کوشش کریں کہ:
خالی پیٹ چائے نہ پی جائیں۔
رات کے وقت کیفین والی چائے سے پرہیز کریں۔
دودھ اور چینی کی مقدار محدود رکھیں۔
کبھی کبھار سبز چائے یا ہربل ٹی کو متبادل کے طور پر استعمال کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے اعتدال میں پینے پر تازگی اور لطف کا ذریعہ بن سکتی ہے، مگر ضرورت سے زیادہ استعمال نیند، معدے، آئرن اور ذہنی سکون پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ بہتر صحت کے لیے چائے نوشی میں توازن رکھنا دانش مندی ہے۔





