پشاور، شعبۂ صحت میں 29 سال خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر آصف شاہ عہدے سے فارغ، وجہ کیا بنی؟ معروف سرجن کا بیان سامنے آگیا

پشاور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس نے معروف پلاسٹک سرجن پروفیسر ڈاکٹر سید آصف شاہ کو عہدے سے فارغ کردیا ہے۔

ڈاکٹر آصف شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بغیر کسی وجہ، بلیک میلنگ، کرپشن، بھتہ خوری یا ہراسانی کے الزام کے ملازمت سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اپنے بیان میں پروفیسر ڈاکٹر سید آصف شاہ نے کہا کہ ان کے پاس امریکی گرین کارڈ تھا جو 2020ء میں ایکسپائر ہوگیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ 2000ء کے بعد واپس آئے اور اپنے ملک میں بطور ڈاکٹر خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر آصف شاہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ملک اور شعبہ طب کے لیے وقف کیا اور گزشتہ 29 برس سے خدمات انجام دے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں کے پاس امریکی شہریت ہے تاہم انہوں نے پاکستان میں رہ کر طبی خدمات کو ترجیح دی۔

انہوں نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سمیت ملک کے صحت کے نظام پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 13 سے 15 برسوں کے دوران صحت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، انہوں نے بعض معاملات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نظام میں دھوکا دہی اور بدعنوانی سمیت دیگر مسائل کی نشاندہی کی۔

پروفیسر ڈاکٹر سید آصف شاہ نے کہا کہ وہ مائیکرو ویسکیولر سرجریز کر رہے ہیں اور الحمدللہ اس شعبے میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ وہ جدید طبی طریقہ علاج کے ذریعے مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیچنگ ہسپتالوں میں گریڈ 17 کی سرکاری نوکریاں، نئی آسامیوں پر بھرتی شروع

ڈاکٹر آصف شاہ نے کہا کہ ان کا مقصد اپنے ملک کے لیے خدمات انجام دینا اور قربانی دینا تھا، انہوں نے اپنے مستقبل اور پاکستان میں خدمات کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر سید آصف شاہ کی جانب سے عہدے سے ہٹائے جانے کی وجوہات اور دیگر الزامات کے حوالے سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس یا متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

Scroll to Top