خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر صوبائی حکومت شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ ایک اہم سیاسی بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر 2013 میں ایک پُرامن صوبہ صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا تھا اور آج وہی صوبہ دوبارہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے تو اس کی ذمہ داری صوبائی قیادت کے علاوہ اور کس پر عائد ہوتی ہے؟
بیان میں صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ خود یہ دعویٰ کریں کہ صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز حکومت کی منظوری کے بغیر ہو رہے ہیں اور انہیں اپنے ہی صوبے میں ہونے والی کارروائیوں کا علم نہیں، تو یہ محض نااہلی نہیں بلکہ گورننس کے مکمل طور پر ناکام ہو جانے کا کھلا اعتراف ہے۔
سیاسی بیان میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ محض بیانات اور سیاسی تھیٹر بازی بند کریں۔ بیان کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام، بالخصوص وادی تیراہ اور ضلع کرم کے مکینوں کو تقاریر یا سیاسی نعروں کی نہیں بلکہ عملی قیادت کی ضرورت ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں صوبے کی اولین ترجیح امن و امان کی بحالی اور متاثرہ علاقوں میں بے گھر ہونے والے افراد (آئی ڈی پیز) کی فوری آبادکاری ہونی چاہیے۔ عوام اس وقت سیاسی ڈرامے اور افراتفری کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
بیان میں زور دیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات، شفاف حکمت عملی اور متاثرہ عوام کی بحالی ہی وہ اقدامات ہیں جن سے صوبے کو دوبارہ امن کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر محض بیانات اور الزامات کی سیاست عوامی مسائل میں مزید اضافہ کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا کے حساس علاقوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی نے ایک بار پھر صوبائی حکومت کی صلاحیت اور حکمرانی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کے واضح اور عملی جوابات عوام منتظر ہیں۔





