سپر ٹیکس پر عدالت کا فیصلہ،300 ارب روپے کی آمدن متوقع

وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس عائد کرنے کو آئینی طور پر جائز قرار دے دیا اور ٹیکس دہندگان کی اپیلیں مسترد کر دیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ دیا کہ ٹیکس سال 2022 کے لیے دفعہ فور سی کے تحت سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہوگی۔

ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس کے معاملات کی معروف وکیل عاصمہ حمید نے دلائل پیش کیے۔

عدالت نے تیل اور گیس تلاش کرنے والی پیٹرولیم کمپنیوں کو نئے نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیا جبکہ بینکنگ کمپنیوں پر سپر ٹیکس ٹیکس سال 2023 اور اس کے بعد کے سالوں کے لیے قابل اطلاق ہوگا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں سپر ٹیکس 2015 میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی اور آمدنی بڑھانے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ! سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال

2022 میں اس کا دائرہ بڑھا کر 150 ملین روپے سالانہ منافع کمانے والے افراد یا کمپنیوں تک کر دیا گیا اور شرح زیادہ سے زیادہ 10 فیصد مقرر کی گئی تھی۔

Scroll to Top