چار سال کی برداشت کا فیصلہ!خیبرپختونخوا، بلدیاتی نمائندوں کا11 فروری کو سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ

چار سال کی برداشت کا فیصلہ!خیبرپختونخوا، بلدیاتی نمائندوں کا11 فروری کو سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں نے 11 فروری کو سڑکوں پر نکلنے اور احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ دھرنا لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام خیبرپختونخوا اسمبلی چوک پشاور میں منعقد ہوگا۔

میئر پشاور زبیر علی نے کہا کہ 11 فروری کا احتجاجی دھرنا تاریخی ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سال سے صوبے میں مقامی حکومتیں مفلوج رہی ہیں، جس کی وجہ سے عوامی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ دھرنے میں میئرز، تحصیل و ویلج کونسلز کے چیئرمینز بھرپور شرکت کریں گے۔

زبیر علی نے مزید کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی ہیں، جس سے بلدیاتی نمائندوں کے اختیار اور ترقیاتی فنڈز محدود ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول، ’’بلدیاتی نمائندے بغیر وسائل کے بھی عوامی خدمت میں مصروف ہیں، لیکن موجودہ حالات میں عوامی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

مزید برآں، جے یو آئی ضلع پشاور نے بھی اس احتجاج میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے۔ احتجاجی دھرنے کا فیصلہ گزشتہ روز مفتی محمود مرکز میں منعقدہ اجلاس میں لیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دھرنا نہ صرف بلدیاتی نمائندوں کی طاقت اور عوامی مسائل کے حل کے لیے زور دینے کا مظاہرہ ہوگا، بلکہ صوبائی حکومت پر بھی دباؤ ڈالے گا کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات اور وسائل فراہم کیے جائیں۔

11 فروری کا دھرنا صوبے کے بلدیاتی نمائندوں کے لیے ایک تاریخی موقع ہوگا، جو عوامی خدمت اور مقامی حکومتوں کے حق میں اہم پیغام دینے کی کوشش کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

Scroll to Top