پاکستان میں سونے کی بڑھتی قیمتیں، سرمایہ کاروں نے نیا راستہ نکال لیا

سونا بے قابو! عالمی کشیدگی کے باعث قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ، مزید مہنگا ہو گیا

عالمی کشیدگی میں اضافے کے باعث سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی مارکیٹ پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی عالمی حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے سونے نے حالیہ دنوں میں غیر معمولی تیزی دکھائی ہے۔

بدھ کے روز عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔ امریکی بحری بیڑے کے قریب ایرانی ڈرون کے مار گرائے جانے کے واقعے نے سونے کی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر حیثیت کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات عمان میں ہونے کی اطلاعات نے مارکیٹ کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اسی طرح، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی پر بھی سرمایہ کار نظریں جمائے ہوئے ہیں، جہاں 2026 میں شرح سود میں کم از کم دو مرتبہ کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ کم شرح سود کا ماحول عام طور پر سونے کے لیے سازگار سمجھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ کے اعداد و شمار
عالمی مارکیٹ میں ایک اونس سونے کی قیمت 5,071.79 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے سونے نے 5,594.82 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح بھی چھوئی تھی۔
امریکی فیوچرز مارکیٹ میں اپریل ڈیلیوری کے لیے سونا 5,092 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

پاکستان میں سونے کی متوقع قیمت:
عالمی مارکیٹ کی موجودہ قیمت اور انٹربینک ڈالر ریٹ 278.76 روپے کے حساب سے ایک تولہ سونے کی متوقع قیمت تقریباً 5 لاکھ 30 ہزار روپے بنتی ہے۔ تاہم، یہ ایک تخمینہ ہے اور مقامی عوامل، ٹیکسز اور طلب و رسد کے فرق کے باعث قیمت میں ردوبدل ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر عالمی کشیدگی برقرار رہی تو پاکستان میں سونے کی قیمتیں مزید بلند سطحیں چھو سکتی ہیں۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کی پیش گوئی ہے کہ قریبی مدت میں سونا 5,100 ڈالر فی اونس کی سطح کو چھو سکتا ہے، جبکہ سال کے پہلے نصف میں 5,600 ڈالر اور سال کے آخر تک چھ ہزار ڈالر فی اونس تک بھی پہنچنے کا امکان ہے۔

چاندی، پلاٹینم اور پیلاڈیم کی قیمتوں میں بھی عالمی سطح پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار ہے۔

Scroll to Top