راولپنڈی: وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے سانحہ ترلائی کلاں امام بارگاہ کا دورہ کیا اور نماز ادا کی۔
نماز اسی امام کی زیرِ قیادت ادا کی گئی تھی جو دھماکے کے وقت بھی نماز پڑھا رہے تھے۔ اس دوران مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔
اہل علاقہ نے اس موقع پر قومی یکجہتی اور ہمدردی کا بھرپور اظہار کیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ یہ حملہ کسی ایک طبقے کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کی یکجہتی اور انسانی اقدار پر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مساجد اور عبادت گاہیں مقدس ہیں اور امن پر حملہ ناقابل برداشت ہے۔ نقوی نے یقین دلایا کہ سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور ذمہ داران کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کا مقصد خوف اور تفرقہ پھیلانا ہے، لیکن پاکستان کا جواب اتحاد اور ریاستی عملداری کے ساتھ ہوگا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے پمز اسپتال میں جا کر زخمیوں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کی دعائیں کیں۔
اس دورے کے دوران حکام نے متاثرہ علاقے میں حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور سانحہ میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : راولپنڈی مسجد دھماکہ،شہداء کی تعداد 31 ہوگئی، متعدد زخمی
راولپنڈی شہر کے مضافات میں واقع مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید اور 169 زخمی ہوگئے ہیں۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں شہید ہونےوالوں کی تعداد 31 ہوگئی ہے جبکہ 169 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار کو پہلے ہی دیکھا گیا تھا اور اسے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ٹارگٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی خود کو دھماکے سے اڑا دیا.
سانحے میں 31 معصوم نمازی شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، پولیس کے مطابق خودکش بمبار کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔
پولیس اور سیکورٹی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر کارروائی کر رہے ہیں۔
دھماکے کے فوری بعد جڑواں شہروں کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔





