راولپنڈی دھماکے کی حقیقت سامنے آ گئی!کتنا بارودی مواد استعمال ہوا؟ اداروں نے اہم شواہد جمع کر لیے

راولپنڈی دھماکے کی حقیقت سامنے آ گئی!کتنا بارودی مواد استعمال ہوا؟ اداروں نے اہم شواہد جمع کر لیے

گزشتہ روزراولپنڈی کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش حملے کے شواہد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جمع کر لیے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق تحقیقات میں نیشنل فارنزک ایجنسی (این ایف اے) اور نادرا کی مدد بھی حاصل کی گئی۔

پولیس کے مطابق حملہ آور نے حملے سے قبل فائرنگ بھی کی۔ راستے میں 2 گولیاں چلانے کے بعد حملہ آور مسجد کے ہال میں داخل ہوا اور مزید 6 گولیاں چلائیں، جن کے خول جائے وقوعہ سے برآمد ہوئے۔ اس کے بعد حملہ آور نے خودکش جیکٹ کے ذریعے دھماکہ کیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں تقریباً 4 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جس میں بال بیرنگ کی مقدار زیادہ تھی، جو دھماکے کی شدت کو بڑھانے کا سبب بنی۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور بارودی مواد کی نوعیت اور مقدار کی مزید تفصیلی جانچ جاری ہے۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ حملے کے منصوبہ سازوں اور ممکنہ دیگر شراکت داروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

یاد رہے کہ اس خودکش دھماکے میں 32 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 150 سے زائد زخمی ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر کے علاج فراہم کیا جا رہا ہے، اور اسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔

Scroll to Top