پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفئیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے اپنے ہیومن اسپیس فلائٹ پروگرام میں ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جسے ملکی سائنسی ترقی اور خلائی تحقیق کے میدان میں ایک غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سپارکو نے خلا باز امیدواروں کے انتخاب کے دوسرے مرحلے کو کامیابی سے مکمل کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں پاکستان بھر سے امیدواروں کی جامع اسکریننگ کی گئی، جس کے بعد دو نمایاں امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔
شارٹ لسٹ امیدواروں کی بین الاقوامی معیار کی تربیت
آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں نے چین کے آسٹروناٹس سینٹر (ACC) میں بین الاقوامی انسانی خلائی پرواز کے معیارات کے مطابق تفصیلی طبی، نفسیاتی اور پیشہ ورانہ صلاحیتی جائزے کامیابی سے مکمل کیے۔ یہ جائزے جدید ترین عالمی پروٹوکولز کے تحت کیے گئے، جن میں جسمانی برداشت، ذہنی دباؤ میں فیصلہ سازی، ٹیم ورک اور تکنیکی مہارتوں کا باریک بینی سے تجزیہ شامل تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دونوں امیدوار چھ ماہ پر مشتمل جدید خلا باز تربیتی پروگرام میں حصہ لیں گے۔ تربیت کے دوران انہیں زیرو گریویٹی ماحول، خلائی اسٹیشن آپریشنز، ایمرجنسی پروسیجرز اور سائنسی تجربات کی عملی مشق کرائی جائے گی۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد ایک امیدوار کو اکتوبر یا نومبر 2026 میں چینی خلائی اسٹیشن پر مجوزہ خلائی مشن کے لیے حتمی طور پر منتخب کیا جائے گا۔
پاکستان-چین خلائی تعاون کا سنگِ میل
یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان خلائی شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا نتیجہ ہے، جو فروری 2025 میں دستخط کیے گئے دو طرفہ آستروناٹ تعاون معاہدے کے تحت جاری ہے۔ اس معاہدے کو وزیر اعظم پاکستان کی قیادت میں طے پایا، جس نے پاکستان کو انسانی خلائی پرواز کے عالمی پروگرام میں شمولیت کا موقع فراہم کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ تاریخی اقدام عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کی مضبوط حمایت کا بھی مظہر ہے، جس نے پاکستان کو اپنے خلا باز پروگرام میں پہلے غیر ملکی شراکت دار کے طور پر منتخب کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا عملی ثبوت ہے۔
نوجوانوں کے لیے تحریک اور مستقبل کی راہیں
سائنس و ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے نہ صرف پاکستان کی خلائی تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوان نسل کو سائنسی شعبوں میں آگے بڑھنے کی نئی ترغیب بھی حاصل ہوگی۔ یہ کامیابی پاکستان کو مستقبل میں جدید خلائی تحقیق اور بین الاقوامی سائنسی مشنز میں مزید فعال کردار ادا کرنے کی راہ پر گامزن کرے گی۔
یہ سنگِ میل پاکستان کی سائنسی صلاحیت، بین الاقوامی تعاون اور خلائی تحقیقات کے شعبے میں قدم رکھنے کی کہانی ہے، جس سے ملکی و عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔





