8 فروری کو یومِ سیاہ و یومِ سوگ! اپوزیشن رہنماؤں نے ملک بھر میں پرامن احتجاج کی اپیل کر دی

8 فروری کو یومِ سیاہ و یومِ سوگ! اپوزیشن رہنماؤں نے ملک بھر میں پرامن احتجاج کی اپیل کر دی

اپوزیشن رہنماؤں نے آج ملک بھر میں 8 فروری کو یومِ سیاہ اور یومِ سوگ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق یہ دن ظلم، بدانتظامی اور عوامی نمائندوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے خلاف ملک گیر احتجاج کے طور پر منایا جائے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ ملک انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے، اور ظلم کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہم کسی کو پاکستان ڈبونے نہیں دیں گے۔‘‘

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، اور جب تک عوام کے نمائندے اوپر نہیں آئیں گے، ظلم ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی غم و احتجاج کے اظہار کے لیے آج یومِ سیاہ اور یومِ سوگ بھی منایا جائے گا۔

سلمان اکرم راجہ نے 8 فروری کو ووٹ چوری کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے پورے پاکستان سے اپیل کی کہ وہ شٹر ڈاؤن کریں اور پرامن طریقے سے باہر نکلیں، تاکہ ملک میں عوامی مظاہرے منظم اور پرامن رہیں۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن ایسے پاکستان کی خواہاں ہے جہاں سب بھائی بھائی ہوں۔ انہوں نے کہا، ’’آج یومِ سیاہ اور یومِ سوگ بھی منایا جائے گا۔‘‘

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے وطن عزیز کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں کوئی سانحہ نہ ہو۔ انہوں نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں سیکڑوں افراد کے شہید ہونے کی جانب بھی اشارہ کیا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے ملک بھر میں پرامن احتجاج کی اپیل کی ہے اور کہا کہ عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر اظہار رائے کریں، لیکن تشدد یا کسی قسم کی توڑ پھوڑ سے اجتناب کریں۔

یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک نازک سیاسی اور معاشرتی حالات سے گزر رہا ہے، اور اپوزیشن کی کوشش ہے کہ یومِ سیاہ اور یومِ سوگ کے ذریعے عوامی شعور اجاگر کیا جائے اور حکومت کو جوابدہ بنایا جائے۔

Scroll to Top